ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں امریکا کے بحری جہازوں پر ڈرون حملے کر دیے ہیں جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ خاتم الانبیاء کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب گزشتہ رات امریکا نے ایک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جس جہاز کو نشانہ بنایا گیا وہ چین سے ایران آ رہا تھا اور اس پر حملہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ایران اپنی سمندری حدود اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور مزید جوابی کارروائیوں کا امکان بھی موجود ہے۔
ادھر امریکی مؤقف کے مطابق اس کارروائی کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایرانی جہاز کو تحویل میں لیا گیا تاہم ایران نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔
تازہ پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اوراگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مجوزہ مذاکرات سے قبل ہی باہمی اعتماد کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف سفارتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی تجارتی راستوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔