میانوالی مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بند نہیں ہوا، حقیقت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

میانوالی مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بند نہیں ہوا، حقیقت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ پنجاب حکومت نے میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال بند کر دیا ہے اور اسے ختم کرکے جنرل ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ دعوے گمراہ کن ہیں کیونکہ ہسپتال بند نہیں کیا گیا بلکہ اسے مزید توسیع دے کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز جنرل ہسپتال میانوالی کے طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ایسی پوسٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق حکومت کے دور میں شروع کیا گیا 200 بستروں پر مشتمل جدید مدر اینڈ چائلڈ اسپتال ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی شناخت تبدیل کر دی گئی ہے۔ یہ تاثر بھی دیا گیا کہ میانوالی کے شہری اب ماں اور بچوں کی صحت سے متعلق خصوصی طبی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔

تاہم حقائق کے مطابق یہ دعوے درست نہیں۔ محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اسپتال بدستور فعال ہے اور یہاں تمام اہم طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میانوالی کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر کاشف علی میانہ نے اسپتال کی بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بند نہیں ہوا بلکہ اسے اپ گریڈ کر کے بڑے طبی مرکز کی شکل دی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :فیکٹ چیک: وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سے منسوب خصوصی انٹرویو کا دعویٰ جھوٹ نکلا

انہوں نے بتایا کہ سابق مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میانوالی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور مریضوں کو پہلے سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پرانے ڈی ایچ کیو اسپتال کی جگہ اور گنجائش محدود ہونے کی وجہ سے مختلف شعبہ جات کو نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خلیل احمد نے بھی تصدیق کی کہ ڈی ایچ کیو جنرل ہسپتال میانوالی میں گائنی، بچوں کے علاج سمیت تمام بڑے شعبے فعال ہیں اور مریضوں کو طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال منصوبہ 2019 میں تجویز کیا گیا تھا جبکہ 2022 میں اسے مکمل کیا گیا۔ بعد ازاں اسے وسیع طبی سہولت کے طور پر استعمال میں لایا گیا۔

editor

Related Articles