کوئی نیا ٹیکس نہیں، سولر لائسنسنگ کے معاملے پر نیپرا کی وضاحت آگئی

کوئی نیا ٹیکس نہیں، سولر لائسنسنگ کے معاملے پر نیپرا کی وضاحت آگئی

سولر لائسنسنگ کے معاملے پر نیپرا نے صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ سولر لائسنسنگ کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں، تمام سولر نیٹ بلنگ صارفین کو نیپرا سے منظوری لینا ہوگی۔

حکام نے واضح کیا کہ 25 کلو واٹ سے کم کیپیسٹی والے کنکشن کی منظوری کا اختیار تقسیم کار کمپنیوں کے پاس تھا، آف گرڈ صارفین کا نیپرا منظوری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نیپرا حکام کے مطابق نئے ریگولیشنز سے پہلے نیپرا 25 کلو واٹ سے زائد کنکشن کی منظوری دیتی تھی، آن گرڈ سولر کنکشن کیلئے صرف ون ٹائم ایک ہزار فی کلو واٹ فیس رکھی گئی ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ سولر پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

گزشتہ روز سولر نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے پاور ڈویژن نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے مختلف ابہامات کو دور کرنے کی کوشش کی تھی ۔

یہ بھی پڑھیں :اسمارٹ میٹرز لازمی ؟ بجلی صارفین کیلئے اہم خبر آگئی

دوسری جانب پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے متعارف کروائی گئی مفت سولر پینل اسکیم میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق اس اسکیم کے لیے درخواستوں کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے، جس کے بعد اب شہری دسمبر تک اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس اسکیم سے وہ گھریلو صارفین فائدہ اٹھا سکیں گے جو ماہانہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں لائف لائن صارفین سمیت دیگر متعلقہ کیٹیگریز بھی شامل ہیں ، مزید برآں، وہ صارفین جن کا بجلی کا بوجھ 2 کلو واٹ تک ہے، وہ بھی اس سہولت کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔

رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے شہریوں کو سرکاری ویب پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ، اس کے علاوہ بجلی کے بل کے ریفرنس نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے بھی رجسٹریشن ممکن بنائی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply