ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نِک نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اس وقت مقامی سطح پر 1000 سے زیادہ اقسام کے جدید ہتھیار تیار کر رہا ہے، جن میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور پیچیدہ عسکری نظام شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان نے واضح کیا کہ ملک کی میزائل صلاحیت کا ایک بہت بڑا اور اہم حصہ ابھی تک کسی بھی کارروائی میں استعمال نہیں لایا گیا اور اسے اسٹریٹجک دفاع کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔
برگیڈیئر جنرل رضا طلائی نِک نے کہا کہ 7 اپریل 2026 تک امریکا اور صیہونی ریاست کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی دفاعی اور جوابی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور مقبوضہ علاقوں کی فضائی حدود پر اپنی برتری ثابت کی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ خود انحصاری گزشتہ 25 سالوں کے دوران دفاعی شعبے میں کی جانے والی مسلسل سرمایہ کاری کا ثمر ہے، جس کی بدولت آج تمام ہتھیار مکمل طور پر ایران کے اندر تیار ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 9000 نجی اور سرکاری کمپنیاں دفاعی صنعت کی معاونت کر رہی ہیں۔ ہتھیاروں کی پیداواری تنصیبات کو ملک کے مختلف حصوں میں اسٹریٹجک بنیادوں پر پھیلا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی دشمن حملے کی صورت میں سپلائی چین متاثر نہ ہو اور پیداوار کا عمل جاری رہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں ایرانی کنٹرول کو ’اسٹریٹجک پاور‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعدد مواقع پر مخالف قوتوں کو ایرانی بحری حکمتِ عملی کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
ایران کا دفاعی نظریہ دہائیوں سے جاری عالمی پابندیوں کے جواب میں ’خود انحصاری‘ کے گرد گھومتا ہے۔ آج تک کی صورتحال کے مطابق تہران نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو اس حد تک جدید بنا لیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی ہدف کو درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کے خلاف ’ڈرون سوارم‘ اور میزائلوں کے محدود استعمال کو ماہرین محض ایک ’وارننگ‘ قرار دے رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا یہ دعویٰ کہ ان کی ’اصل طاقت‘ ابھی سامنے نہیں آئی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اپنے مہنگے اور جدید ترین ہتھیاروں کو کسی بڑی جنگی صورتحال کے لیے بچا کر رکھا ہے۔
9 ہزار کمپنیوں کا دفاعی مینوفیکچرنگ میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے اپنی معیشت کو ’وار اکانومی‘ کے سانچے میں ڈھال لیا ہے، جہاں سویلین اور فوجی پیداوار ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔