خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے مختلف ادوارِ حکومت کا تقابلی جائزہ سامنے آنے کے بعد صوبائی قیادت کی کارکردگی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سینئر صحافی اور پارلیمانی رپورٹر عصمت شاہ گروکی نے کہا ہے کہ پرویز خٹک کا دور صوبے اور عوام کے لیے سب سے بہتر رہا جبکہ محمود خان نے بھی اپنے دور میں چند اہم اقدامات کے ذریعے عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
اپنے بیان میں انہوں نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے لیے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ سامنے نہیں لا سکے اور ان کی توجہ زیادہ تر احتجاج، سیاسی بیانیے اور بانی کی رہائی کے معاملات تک محدود رہی۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُن کے دورِ حکومت میں صوبے میں کرپشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی تناظر میں موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی وزارتِ اعلیٰ میں کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ وہ عوامی مسائل کے حل میں سنجیدگی سے نظر نہیں آ رہے۔
ادھر پشاور کرکٹ سٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کے دوران دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد نے وزیراعلیٰ سے براہِ راست ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل کے فوری حل اور پارٹی بانی کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اس کی خبر بنا دیں