گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور نمائشی اقدامات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اداروں کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے غیر ضروری سیاسی کشمکش پر مرکوز ہو گئی ہے جس سے عام شہری کے مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اجلاس کے انعقاد پر جو بھاری اخراجات آتے ہیں اگر وہی وسائل یونیورسٹی ملازمین کی تنخواہوں اور تعلیمی شعبے کی بہتری پر خرچ کیے جائیں تو اس کا فائدہ زیادہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بعض فیصلے اس طرح کے ہیں جن سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ حکومت کی پالیسی کے خلاف ہیں یا اسمبلی کے انتظامی سربراہ کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں، جس سے سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
گورنر نے مزید کہا کہ کھیل کے میدان نوجوانوں کی صحت مند سرگرمیوں کے لیے ہوتے ہیں لیکن انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا افسوسناک عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور مختلف گروہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جو مجموعی طور پر نظامِ حکمرانی کے لیے نقصان دہ ہے، انہوں نے کرپشن کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شفافیت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
دوسری جانب پشاور میں منعقد ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو کے بارہویں ایڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبوں میں بے پناہ مواقع رکھتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی بین الاقوامی نمائشوں سے ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی جغرافیائی اہمیت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔