جنگ بندی کے دعووں کے باوجود جنوبی لبنان میں ایک بار پھر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جہاں بمباری کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
لبنان کی وزارت صحت اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جان سے گئے، جن میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ تین خواتین سمیت 37 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں میں یارون اور بنت جبیل کے درمیان گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا اور کئی مقامات پر مسماری کی کارروائیاں کیں جبکہ صیدا (ٹائر) ضلع میں اسرائیلی طیاروں نے برج قلاویہ پر حملہ کیا، جبکہ منصوری اور بیت الصیاد کے علاقوں کی جانب فائرنگ بھی کی گئی۔
نبطیہ ضلع میں کفر تبنیت کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ارنون اور علی الطاہر کے جنگلاتی علاقے پر توپخانے سے گولہ باری کی گئی ، اسی ضلع کے علاقے زوطر الشرقیہ میں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں نے حملے کیے، جہاں ایک مسجد اور مذہبی ہال کو تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
بنت جبیل کے علاقے میں بیت یہون کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ برج قلاویہ پر تین، کفرہ پر ایک اور جبل البطم اور صدیقین کے درمیان واقع علاقے پر بھی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ڈرون کی مدد سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے ، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے طیبہ میں حزب اللہ نے ڈرون سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا۔
لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2500 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
16 اپریل کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس کی متعدد بار خلاف ورزیاں کی گئیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے لبنان میں جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھا، مگر اس کے باوجود ٹرمپ کے اعلان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔