اب چلے گا سب پر بلڈوزر! وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک کرنے کا مشن شروع

اب چلے گا سب پر بلڈوزر! وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک کرنے کا مشن شروع

وفاقی حکومت نے دارالحکومت کی خوبصورتی اور اصل ماسٹر پلان کی بحالی کے لیے تجاوزات کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور بلاامتیاز آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی براہ راست نگرانی میں میریٹ ہوٹل اور ایوب چوک کے قریبی حساس علاقے میں ایک بڑی کارروائی کی گئی، جس کے دوران دہائیوں سے گرین بیلٹ پر قائم ’فرنٹیئر کانسٹیبلری‘ (ایف سی) کے کیمپ آفس کو بھی بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کر دیا گیا۔

اس اہم آپریشن کے موقع پر چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ آپریشن کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، چاہے وہ کوئی سرکاری ادارہ ہو یا نجی گروہ۔

وزیر داخلہ کا دو ٹوک مؤقف

موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر غیر قانونی تعمیرات کو ختم کر رہے ہیں۔ شہر کے سبزہ زاروں اور سرکاری اراضی پر قبضے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی‘۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ ایف سی ایک معتبر ادارہ ہے، اس لیے ان کے کیمپ آفس کے لیے متبادل اور قانونی جگہ فراہم کی جائے گی، تاہم عوامی زمین اور گرین بیلٹس کو واگزار کرانا اولین ترجیح ہے۔

تجاوزات کا مسئلہ اور حکومتی عزم

اسلام آباد جو اپنی منصوبہ بندی اور ہریالی کے باعث دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، گزشتہ چند دہائیوں سے بدنظمی اور غیر قانونی تعمیرات کا شکار رہا ہے۔ مختلف ادوار میں سیاسی اور انتظامی اثر و رسوخ کی بنا پر کئی سرکاری اداروں اور بااثر شخصیات نے گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم کر لیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفارتخانے آمد،سفیر کو کیا یقین دہانی کرائی گئی؟

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور عارضی دفاتر بنائے گئے، جو وقت گزرنے کے ساتھ مستقل تجاوزات کی شکل اختیار کر گئے۔

ماضی میں سی ڈی اے کی خاموشی یا ملی بھگت سے قبضہ مافیا نے بھی جڑیں مضبوط کیں۔ موجودہ انتظامیہ نے اب ان تمام غیر قانونی ڈھانچوں کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اپنائی ہے تاکہ شہر کو اس کی 1960 والے ماسٹر پلان کے مطابق بحال کیا جا سکے۔

حالیہ آپریشن میں صرف ایف سی کیمپ ہی نہیں بلکہ شہر کے مختلف سیکٹرز میں غیر قانونی طور پر قائم کمرشل تجاوزات، باڑوں اور تجاوز کردہ پارکنگ ایریاز کو بھی نشانے پر رکھا گیا ہے۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق اب تک 100 سے زائد ایسے پوائنٹس کی نشاندہی کی جا چکی ہے جہاں سے تجاوزات ہٹائی جانی ہیں۔ اس مہم کے تحت واگزار کرائی گئی اراضی پر فوری طور پر شجر کاری کی جائے گی تاکہ شہر کا ماحول بہتر بنایا جا سکے۔

Related Articles