رواں سال وقت سے پہلے پڑنے والی گرمی پر ماہرین نے سپر ایل نینو کی خطرناک پیشگوئی کردی ہے، جس کے نتیجے میں گرمی، سیلاب اور خشک سالی ایک ساتھ آنے کا امکان ہے ۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی موسمی شدت، غیر متوقع بارشوں اور شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو آئندہ مہینوں میں سنگین موسمی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں اس وقت پاکستان اور بھارت کے خطوں میں کئی شہر غیر معمولی طور پر شروع ہونے والی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں، مختلف شہروں میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور رات کے اوقات میں بھی گرمی معمول سے زیادہ برقرار ہے، جون تک گرمی کی شدت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی موسمیاتی اداروں کی رپورٹس اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ اس سال عام ایل نینو کے بجائے “سپر ایل نینو” کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ، اس کے نتیجے میں شدید اور طویل گرمی کی لہریں، نمی کے ساتھ خطرناک حد تک بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور اچانک موسلادھار بارشیں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ کلاؤڈ برسٹ جیسے انتہائی خطرناک موسمی واقعات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جو شہری اور دیہی دونوں علاقوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ماہرِماحولیات داکٹر زینب نعیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے برعکس اس سال مسلسل مون سون بارشوں کے بجائے طویل خشک موسم اور اچانک شدید بارشوں کا امکان ہے، یہ صورتحال شدید سیلاب کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نکاسی آب کا نظام کمزور ہے۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اپریل کے آخر سے ہی شدید گرمی کا آغاز ہوچکا ہے، جس کے باعث مئی، جون، جولائی اور اگست انتہائی دباؤ والے مہینے ثابت ہوں گے، جبکہ ستمبر تک یہ صورتحال برقرار رہ سکتی ہے ، درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ ساتھ رات کے درجہ حرارت میں بھی 2 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ متوقع ہے، جس سے شہری علاقوں میں گرمی کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا اور بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
سُپر ایل نینو کیا ہے؟
سپر ایل نینو دراصل ایک قدرتی موسمی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد وقوع پذیر ہوتا ہے ، اس دوران سمندر کے پانی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور ہواؤں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے موسم پر پڑتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کہیں شدید بارشیں ہوتی ہیں تو کہیں خشک سالی اور کہیں شدید گرمی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کے وسط تک موسمی حالات ایل نینو کی طرف بڑھ سکتے ہیں ، اگر یہ ”سپر ایل نینو“ کی شکل اختیار کر گیا تو اس کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔
سپر ایل نینو کی صورت میں گرمی کی لہر طویل اور زیادہ شدت اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر رات کے وقت درجہ حرارت میں اضافہ لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گا۔ اس کے علاوہ مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں، جس سے خشک سالی اور زرعی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔