محرم الحرام : لاہور میں فول پروف سکیورٹی انتظامات، 4ہزار مجالس کی مانیٹرنگ، ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات

محرم الحرام : لاہور میں فول پروف سکیورٹی انتظامات، 4ہزار مجالس کی مانیٹرنگ، ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران شہر بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں اور دس روزہ سکیورٹی پلان کے تحت ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے قلعہ گجر سنگھ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات سے متعلق صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا بھی موجود تھے ۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران لاہور میں 3868 مجالس اور 458 جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گیی ، مجالس میں اے کیٹگری کی 457، بی کیٹگری کی 2610 اور سی کیٹگری کی 801 مجالس شامل ہیں، جبکہ جلوسوں میں اے کیٹگری کے 104، بی کیٹگری کے 308 اور سی کیٹگری کے 46 جلوس برآمد ہوں گے۔

سی سی پی او لاہور کے مطابق 373 امام بارگاہوں اور 93 مساجد پر بھی موثر پولیس ڈیوٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ محرم الحرام کے دوران لاہور پولیس کے ایک لاکھ سے زائد افسران و جوان سکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔

بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ لاہور پولیس کے زیر انتظام 9 کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی سمیت دیگر کنٹرول رومز کے ذریعے جلوسوں اور مجالس کی چوبیس گھنٹے رئیل ٹائم مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ عزاداروں کی حفاظت کے لیے تین درجاتی سکیورٹی حصار قائم کیا گیا ہے اور کیو آر کوڈ و پینک بٹن جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بھی سکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔

سی سی پی او لاہور نے کہا کہ مجالس و جلوسوں کے روٹس اور مقررہ اوقات کی پابندی کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، جبکہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ڈولفن اسکواڈ، پیرو فورس، اینٹی رائٹ فورس اور ٹریفک پولیس سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب: محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کیلئے فوج اور رینجرز کے دستے طلب

بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران قیامِ امن کو یقینی بنانے کے لیے کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے، جبکہ عزاداروں اور شہریوں کی سہولت کے لیے جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔

 صوبائی دارالحکومت میں جرائم سے متعلق بات کرتے ہوئے سی سی پی او نے بتایا کہ  سال 2026 کے دوران سنگین جرائم میں 55 فیصد اور ڈکیتی کی وارداتوں میں 58 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے،  جنوری 2023 سے اب تک شہریوں کو 8 ارب روپے سے زائد مالیت کا مالِ مسروقہ اور نقد رقم واپس دلائی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق 13 لاکھ 32 ہزار پینڈنگ مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے گئے جبکہ ایک لاکھ سے زائد اشتہاریوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

editor

Related Articles