پاکستان میں مارننگ شوز اور پوڈکاسٹس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہےجہاں ہر روز نئے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے نظر آتے ہیں۔ مگر ایک اہم سوال اب زور پکڑ رہا ہے کہ کیا ان کلپس کی مقبولیت کے پیچھے خود ناظرین کا کردار بھی شامل ہے؟
حالیہ دنوں میں مختلف شوز اور پوڈکاسٹس کے کئی متنازع لمحات سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے۔ کہیں میرا کا واک آؤٹ، کہیں فضا علی کے جملے، تو کہیں صبا فیصل کے مشورے اور جاوید شیخ کے خیالات، ہر کلپ نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں ویوز حاصل کیے۔
ماہرین کے مطابق یہ کلپس اکثر مکمل گفتگو کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ایڈیٹنگ کے ذریعے خاص لمحات کو نمایاں کیا جاتا ہے تاکہ ناظرین کی فوری توجہ حاصل کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر، متنازع اور جذباتی کلپس زیادہ وائرل ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کلپس کی مقبولیت میں ناظرین خود بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ واٹس ایپ گروپس میں شیئر کرنا، سوشل میڈیا پر تبصرے کرنا اور وائرل مواد کو آگے پھیلانا، یہ سب اس رجحان کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ متنازع مواد ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی رسائی اور آمدنی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے بعض شوز میں مہمانوں سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جو انہیں غیر آرام دہ صورتحال میں ڈال دیں،تاکہ وہ کلپ وائرل ہو سکے۔
اس رجحان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ معاشرتی مسائل کے بجائے ذاتی زندگی، لباس، شادی اور نجی معاملات پر گفتگو زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ جبکہ سنجیدہ موضوعات اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔