پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 2026 کے حوالے سے جاری بے یقینی کی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھٹیوں کا حتمی فیصلہ 15 مئی کے بعد کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے انکشاف کیا کہ حکومت اس سال تعلیمی نقصانات کے ازالے کے لیے موسمِ گرما کی چھٹیوں میں 15 سے 20 دن کی نمایاں کمی کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
تعلیمی کیلنڈر میں اصلاحات
وزیرِ تعلیم کے مطابق حکومت کا ہدف تدریسی ایام کی تعداد کو 180 سے بڑھا کر 190 دن تک لانا ہے تاکہ سلیبس کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔
اس سلسلے میں صرف گرمیوں کی چھٹیاں ہی نہیں بلکہ سردیوں کی تعطیلات میں بھی 5 سے 6 دن کی کمی کی تجویز زیرِ غور ہے۔ رانا سکندر حیات نے واضح کیا کہ چھٹیوں کے شیڈول کا باضابطہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی حتمی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت سے زیادہ چھٹیاں طلبہ کے قیمتی وقت کا ضائع کرتی ہیں، جس کی روک تھام اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
پنجاب کے تعلیمی نقصانات اور موسمیاتی چیلنجز
پنجاب میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تعلیمی نظام کو کئی غیر معمولی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، موسمِ سرما میں فضائی آلودگی (سموگ) اور شدید سردی کی لہر کے باعث تعلیمی ادارے اکثر کئی ہفتوں تک بند رکھنے پڑتے ہیں، جس سے تعلیمی سال کا دورانیہ سکڑ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ سال پنجاب کو مئی اور جون میں شدید ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو ہنگامی طور پر قبل از وقت چھٹیوں کا اعلان کرنا پڑا تھا۔
ترقی یافتہ ممالک میں تدریسی ایام کی تعداد عام طور پر 190 سے 200 دن ہوتی ہے، جبکہ پاکستان میں چھٹیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ تعداد اکثر 170 سے بھی نیچے گر جاتی ہے۔
تعلیم بمقابلہ صحت؛ حکومت کے سامنے کڑی آزمائش
وزیرِ تعلیم کی جانب سے چھٹیوں میں کمی کی تجویز تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مثبت ہے، تاہم اس کے اطلاق میں چند بڑے چیلنجز حائل ہو سکتے ہیں
محکمہ موسمیات نے پنجاب میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ بیشتر سرکاری سکولوں میں ٹھنڈے پانی اور بجلی کے متبادل ذرائع (سولر یا یو پی ایس) کی کمی ہے، ایسی صورت میں جون کی تپتی دھوپ میں طلبہ کو سکول بلانا ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
چھٹیوں میں 20 دن کی کمی والدین اور اساتذہ کے لیے غیر متوقع ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی طویل موسمِ گرما کے عادی ہیں۔ حکومت کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
اگر مئی کے آخر میں درجہ حرارت برداشت سے باہر ہوا اور حکومت کو مجبورا جلد چھٹیاں دینی پڑیں، تو 190 تدریسی ایام کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے لیے شاید آن لائن کلاسز یا اضافی کلاسز کا آپشن استعمال کرنا پڑے۔