پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات مارکیٹ میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں منگل کے روز سولر پلیٹس اور بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سولر سسٹم لگوانے والے صارفین کو بڑا ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سولر پلیٹس کی قیمتوں میں5 ہزار سے10 ہزار روپے تک کمی دیکھی گئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سولر مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ درآمدی سامان کی لاگت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس کے باعث سولر پلیٹس انورٹرز اور بیٹریوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب عالمی اور مقامی مارکیٹ کے بدلتے حالات کے باعث قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہوا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ عرصے میں بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور بعض اقسام کی بیٹریاں 27 ہزار سے 38 ہزار روپے تک مہنگی ہو گئی تھیں تاہم پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے بعد بیٹریوں کی ترسیل، پیداواری لاگت اور دیگر اخراجات میں کمی آنے سے قیمتوں میں کمی کی گئی ہے اور اس وقت مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں ، یو پی ایس کی بیٹری کی قیمت میں 5 ہزار روپے تک کی کمی ہوچکی ہے
سولر سسٹم کے لیے استعمال ہونے والی بیٹریوں کی قیمتوں میں بھی مارکیٹ میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس سے گھریلو صارفین کے لیے سولر لگوانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کے باعث شہری بڑی تعداد میں سولر سسٹم کی طرف جا رہے ہیں۔ قیمتوں میں کمی سے متوسط طبقے کے صارفین کے لیے سولر سسٹم لگوانے کے مواقع مزید بڑھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مڈل کلاس طبقے کے لیے سولر پلان کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شہری ماہانہ بجلی کے بل کے برابر قسط ادا کر کے سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اگر کسی شہری کا بجلی کا ماہانہ بل 25 ہزار روپے ہے تو وہ سولر سسٹم کے لیے بھی تقریباً اتنی ہی ماہانہ قسط ادا کرے گا اور چند سال میں قسطیں مکمل ہونے کے بعد وہ بجلی کے بھاری بلوں سے نجات حاصل کر سکے گا۔