پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکا کے مابین ہونے والے تاریخی امن معاہدے اور اس میں اسلام آباد کے کلیدی سفارتی کردار کے حوالے سے انتہائی اہم تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی برادری نے امریکا ایران معاہدے میں پاکستان کے تعمیری اور اسٹرٹیجک کردار کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور پاکستان خطے کے مستقل امن و استحکام کے لیے آئندہ بھی ایسا ہی فعال کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان اور اعلیٰ ملاقاتیں
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان کی خصوصی دعوت پر پاکستان کا 1 روزہ اہم اور مختصر دورہ کیا۔
اپنے اس دورے کے دوران ایرانی صدر نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان سے الگ الگ تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ سفارتی، معاشی اور سکیورٹی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور مزید مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی نمائندگی
پاکستان ثالثی کے عمل کی حساس تفصیلات بتاتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے انکشاف کیا کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی براہ راست ثالثی میں انتہائی اہم مذاکرات عمل میں لائے گئے۔ اس تاریخی امن عمل میں پاکستان اور قطر نے بطور مشترکہ ثالث شرکت کی۔
پاکستان کی جانب سے اس اہم ترین سفارتی معرکے میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے خود ملک کی نمائندگی کی، جو اس عمل کے لیے ریاستی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والے متعدد پچیدہ نکات پر تفصیلی بات چیت کی گئی، اور اب پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں مزید پیش رفت کے لیے فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ترجمان نے اس حساس ترین عمل کے دوران پاکستانی میڈیا کی جانب سے ذمہ دارانہ اور پیشہ ورانہ رپورٹنگ کی تعریف بھی کی۔
دوسرے مرحلے کے لیے 3 مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس کا قیام
ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات کو حتمی شکل دینے اور تمام امور پر عملدرآمد کے لیے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 3 مخصوص تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں جو درج ذیل امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پہلا گروپ (نیوکلیئر پروگرام)
یہ ورکنگ گروپ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے تمام پچیدہ اور تکنیکی معاملات کو مانیٹر کر رہا ہے۔
دوسرا گروپ (پابندیاں اور اثاثے)
یہ گروپ ایران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور دنیا بھر میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی بحالی کے امور کا جائزہ لے رہا ہے۔
تیسرا گروپ (لبنان کی صورتحال)
یہ گروپ مشرق وسطیٰ بالخصوص لبنان کی موجودہ صورتحال اور وہاں امن قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور قطر کی مشترکہ تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی اپنی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی۔
عالمی سفارت کاری اور صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کا معاملہ
ریاست کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ 21 جون کو پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم ترین اجلاس منعقد ہوا، جس میں ’اسلام آباد ایم او یو‘ اور ’برگن اسٹاک مذاکرات‘ کے حاصل ہونے والے فوائد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم نے سعودی عرب، اٹلی، کینیڈا، بحرین اور ایران سمیت مختلف اہم ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطے کیے ہیں۔
بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے صومالیہ کے ساحل پر پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صومالیہ کوسٹ پر کچھ پاکستانی شہریوں کو سمندری قزاقوں یا مسلح عناصر نے یرغمال بنا لیا ہے۔
حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے صومالیہ کے اعلیٰ حکام اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے۔