لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناخت اور شہریت کے مقدمات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کیا ہے۔
عدالت عالیہ نے 2 شہریوں کے بلاک شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے سے متعلق ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ’نادرا‘ کی اپیل منظور کر لی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا ہے کہ ماتحت عدالتیں شہریت سے متعلق مقدمات کو نمٹاتے ہوئے ملک کی قومی سلامتی کے حساس معاملات کو بھی لازمی مدنظر رکھیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی کا 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی جانب سے دائر اپیل پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں شہریت کی تصدیق کے لیے سخت قانونی معیار مقرر کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پاکستان کی شہریت ثابت کرنے کی قانونی ذمہ داری ہمیشہ دعویٰ کرنے والے شخص پر عائد ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے متعلقہ دعویدار شخص کو محض زبانی دعوؤں کے بجائے اپنے والد اور دادا کی پاکستانی شہریت کے ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد پیش کرنا ہوں گے۔
شہریت کے تعین کے لیے 1979 کا سرکاری ریکارڈ بنیادی شرط
تفصیلی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ 1979 سے پہلے کا کوئی بھی مستند سرکاری ریکارڈ شہریت کے تعین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ، پرانا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد سمیت دیگر دستاویزات بھی بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہیں۔
عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں دعویدار افراد 1979 سے پہلے کا کوئی بھی قابل اعتماد یا مستند سرکاری ریکارڈ پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔
فیصلے میں نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی کی رپورٹس کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے دستیاب شواہد اور قانونی تقاضوں کا درست جائزہ نہیں لیا۔
سول دعویٰ اور رٹ پٹیشن پر پابندی
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں ایک بڑا قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ شہریت کے معاملات محض ایک شناختی کارڈ کے حصول کا نام نہیں بلکہ یہ کسی بھی فرد کی قانونی حیثیت کا سنگین سوال ہیں، اور یہ تمام تنازعات ‘پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ’ اور نادرا قوانین کے تحت ہی طے ہوں گے۔
فیصلے کے مطابق ایسے معاملات میں براہ راست سول دعویٰ یا رٹ پٹیشن قابل سماعت نہیں ہو سکتی جب قانون کے اندر متبادل فورمز موجود ہوں۔
شہریوں کے لیے پہلے نادرا کے قانونی فورمز سے رجوع کرنا لازم ہے۔ نادرا ویری فکیشن بورڈ اور وفاقی حکومت کے متعلقہ فورمز کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر کوئی بھی سول کورٹ یا ہائیکورٹ اس معاملے کو براہ راست نہیں سن سکتی۔
خالد خان اور عطا اللہ غیر ملکی قرار
عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کے مطابق، متاثرہ افراد خالد خان اور عطا اللہ کے شناختی کارڈ مشکوک شہریت کی بنیاد پر بلاک کیے گئے تھے۔
ان کے پورے خاندان کو نادرا کی مشترکہ ویری فکیشن کمیٹی نے باقاعدہ غیر ملکی قرار دیا تھا۔ فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے حساس ترین اداروں بشمول اسپیشل برانچ، آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس میں بھی ان افراد کی پاکستانی شہریت ثابت نہیں ہو سکی تھی۔
ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے یکسر مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ متاثرہ افراد 30 روز کے اندر نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کریں، جبکہ بورڈ قانون کے مطابق 60 روز کے اندر اس کیس کا حتمی فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن اور نادرا کا شناختی کارڈ بلاکنگ سسٹم
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن، بالخصوص افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ماضی میں نادرا کے کرپٹ عناصر یا جعلی دستاویزات کی مدد سے غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے نادرا نے حالیہ سالوں میں انٹیلیجنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی، آئی بی) اور اسپیشل برانچ کے ساتھ مل کر ‘مشترکہ ویری فکیشن کمیٹیاں’ تشکیل دیں، جنہوں نے لاکھوں مشکوک شناختی کارڈ بلاک کیے۔
جب یہ افراد نادرا سے کارڈ بحال کرانے میں ناکام ہوتے ہیں، تو وہ اکثر ماتحت سول عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں قانونی پچیدگیوں کو سمجھے بغیر بعض اوقات نادرا کے خلاف یکطرفہ ڈگریاں جاری کر دی جاتی ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
ماتحت عدلیہ کے لیے گائیڈ لائن
جسٹس محسن اختر کیانی کا یہ ریمارکس دینا کہ ’عدالتیں قومی سلامتی کو مدنظر رکھیں‘ دراصل ماتحت سول ججوں کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔ سول عدالتیں اکثر شہریت کو ایک عام جائیداد کا تنازع سمجھ کر فیصلہ کر دیتی ہیں، لیکن اب انہیں ایجنسیوں (آئی ایس آئی، آئی بی) کی رپورٹس کو اولیت دینی ہوگی۔
1979 کی ٹائم لائن کی اہمیت
افغان جنگ کا آغاز 1979 میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستان میں غیر قانونی ہجرت کا سیلاب آیا۔ عدالت کا 1979 سے پہلے کا ریکارڈ مانگنا ایک ماسٹر اسٹروک ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ دعویدار کا خاندان ہجرت کے سیلاب سے پہلے کا یہاں آباد ہے یا بعد کا۔
نادرا کے اختیار میں اضافہ
براہ راست سول دعوؤں اور رٹ پٹیشنز کو ناقابل سماعت قرار دے کر عدالت نے نادرا کے اپنے اندرونی سیکیورٹی بورڈز کو مضبوط کیا ہے۔ اس سے نادرا پر بوجھ تو بڑھے گا لیکن عدالتی مداخلت کم ہونے سے مشکوک افراد کے لیے سٹے آرڈر لے کر شناختی کارڈ کا استعمال جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔