وفاقی دارلحکومت سلام آباد میں سیمنٹ کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث تعمیراتی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ اضافے نے نہ صرف عام صارفین بلکہ بلڈرز اور کنسٹرکشن انڈسٹری کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 50 کلوگرام سیمنٹ کے تھیلے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ، پہلے جو تھیلا 822 روپے میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر 1091 روپے تک پہنچ گیا ہے، جو مختصر وقت میں ایک بڑا اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قیمت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ٹیکسز اور مختلف سرکاری ڈیوٹیز ہیں، جو مجموعی قیمت کا تقریباً 38 فیصد حصہ بنتی ہیں، حکومتی پالیسیوں اور مالیاتی دباؤ نے بھی اس شعبے کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بجلی، گیس اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا بوجھ آخرکار مارکیٹ پر منتقل ہو رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ بھی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا رہا ہے، ترسیل کے بڑھتے ہوئے ریٹس اور لاجسٹک مسائل بھی اس رجحان کو تقویت دے رہے ہیں، جس سے مجموعی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو ملک میں تعمیراتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔