امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں اور یہ کہ ایران کی ناکہ بندی ایک جینیئس فیصلہ ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی خلابازوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ٹیلیفون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں ، ہم نے ایران کی فضائیہ کو تباہ کردیا، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کردیے ہیں، ایران کے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے، ایران کو بس کہنا ہوگا کہ وہ ہار گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی کرنسی کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی ہے ، ایران کی معشیت سخت مشکلات کا شکار ہے ، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، یہ بات ایران بھی جانتا ہے اور باقی سب ملک بھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج روسی صدر کے ساتھ ایران اور یوکرین کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے، روسی صدر کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی، پیوٹن نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پیوٹن نے بتایا کہ وہ ایران کی یورینیم افزودگی کے معاملے پر فکرمند ہیں، انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ امریکا کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔
امریکا کی ایرانی ناکہ بندی سے متعلق ایرانی سپیکر کا ردعمل
ادھر ایرانی سپیکر باقر قالیباف نے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی ناکہ بندی سے تیل کی عالمی قیمتیں140 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں ، ان کاکہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں۔
انھوں نے امریکی پالیسی سازوں کے غیر سنجیدہ اور فضول مشوروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ٹرمپ انتظامیہ کو وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ فضول مشورے دے رہے ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی تیل کی فروخت روکنے کے اقدامات کے باوجود تاحال صورتحال اس طرح نہیں بگڑی کہ تیل کے ذخائر اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئے ہوں۔