بھارت کی ریاست راجستھان سے ایک دلچسپ اور حیران کر دینے والی کہانی سامنے آئی ہے، جہاں 81 سالہ شِوچرن یادیو نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا عزم ایک بار پھر آزمایا لیکن اس بار بھی قسمت ان کے ساتھ نہ دے سکی۔
رپورٹس کے مطابق شِوچرن یادیو نے 46ویں بار میٹرک کے امتحان میں شرکت کی، مگر ایک بار پھر وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ نتائج میں ہندی میں انہیں صرف 3 نمبر جبکہ ریاضی میں 0 نمبر حاصل ہوئے۔
یہ سن کر جہاں کچھ لوگ حیران ہیں وہیں سوشل میڈیا پر ان کی ہمت اور مستقل مزاجی کو خوب سراہا جا رہا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ناکامی کے باوجود ہار نہ ماننے کی اصل مثال شِوچرن یادیو ہیں، کیونکہ انہوں نے فیل ہونے کو بھی ایک مشن بنا لیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ایک یا دو بار ناکامی کے بعد ہار مان لیتے ہیں، مگر شِوچرن یادیو نے 46 بار امتحان دے کر یہ ثابت کیا کہ بعض لوگ رزلٹ نہیں بلکہ “ریکارڈ توڑ استقامت” کے لیے جانے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مزاحیہ تبصرے بھی جاری ہیں۔ کسی نے لکھا کہ ’اب تو بورڈ بھی سوچ رہا ہوگا کہ یہ صاحب امتحان دینے آتے ہیں یا پرانی یادیں تازہ کرنے‘، جبکہ کچھ لوگوں نے انہیں ’لائف ٹائم اسٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ کا خطاب دے دیا ہے۔اس کہانی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کامیابی صرف نمبر لینے کا نام نہیں، بلکہ کوشش جاری رکھنے کا نام بھی ہے، چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو۔