اسلام آباد کے پوش علاقے بحریہ انکلیو میں بندروں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مقامی رہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ یہ جانور گھروں کے قریب آ کر خوراک چھیننے اور آزادانہ گھومنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بندر اب رہائشی علاقوں کے اندر تک داخل ہو رہے ہیں، جس سے لوگوں میں خوف اور پریشانی پھیل گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ جانور کھانے پینے کی اشیا پر حملہ کر رہے ہیں اور بعض اوقات گھروں کے قریب بھی دکھائی دیتے ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بندر باری امام اور نور پور شاہاں کے علاقوں سے منتقل ہو کر باریہ انکلیو کی طرف آئے ہیں۔ ان علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بڑے پیمانے پر انسداد تجاوزات آپریشن کیا گیا، جس کے بعد مقامی ماحول اور جنگلی حیات کے قدرتی مسکن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
یہ کلیئرنس آپریشن کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے انجام دیا تھا، جس میں مسلم کالونی اور نور پور شاہاں کے کچھ حصے بھی شامل تھے۔
ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خاتمے اور رہائش گاہوں کی تبدیلی کے باعث بندروں کا قدرتی مسکن متاثر ہوا، جس کی وجہ سے وہ قریبی آبادیوں کی طرف خوراک اور پناہ کی تلاش میں منتقل ہو گئے۔
ریسس مکاک نسل کے یہ بندر عام طور پر مارگلہ ہلز اور باری امام کے اطراف پائے جاتے ہیں۔ یہ جانور سیاحتی اور مذہبی مقامات کے آس پاس اکثر انسانوں کے قریب آ جاتے ہیں اور خوراک کی تلاش میں شہری علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ نسل جنوبی ایشیا میں عام پائی جاتی ہے اور جب ان کا قدرتی ماحول متاثر ہوتا ہے تو یہ آبادیوں کی طرف رخ کر لیتی ہے۔
بحریہ انکلیو کے رہائشیوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بندروں کی بڑھتی ہوئی آمد سے نہ صرف حفاظت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ گھریلو املاک کو بھی نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں انسانی آبادی اور جنگلی حیات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ ٹکراؤ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔