عبدالحمید خراسانی کی دھمکی آمیز ویڈیو منظرِعام پر، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ مکمل بے نقاب ہوگیا

عبدالحمید خراسانی کی دھمکی آمیز ویڈیو منظرِعام پر، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ مکمل بے نقاب ہوگیا

افغان طالبان رجیم کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابلِ تردید ثبوت منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ حالیہ شواہد نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین نہ صرف دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں سے پاکستان میں دراندازی کے لیے کھلی چھوٹ بھی حاصل ہے۔

افغانستان کے صوبہ کنڑ سے فتنہ الخوارج کے عبدالحمید خراسانی کی ایک دھمکی آمیز ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

دھمکی آمیز پیغام کے مندرجات

عبدالحمید خراسانی نے اپنے ویڈیو پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے زیادہ تر مسلح کارندے اس وقت علاقے میں موجود ہیں اور وہ پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے صرف احکامات کے منتظر ہیں۔ خراسانی نے مزید کہا کہ تمام مجاہدین اور افغان عوام پر فرض ہے کہ وہ افغانستان کے رہنماؤں کا دفاع کریں۔ ماہرین کے مطابق، فتنہ الخوارج کے کمانڈرز کا افغان قیادت کے احکامات کے تابع ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ طالبان رجیم ہی اس فتنے کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

دہشت گردی کی نئی لہر اور سفارتی محاذ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کا معاملہ طویل عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز ہے، پاکستان نے متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے دستاویزی شواہد پیش کیے ہیں۔ ان شواہد میں دہشت گردوں کی لوکیشنز اور افغان حکام کے ساتھ ان کے روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی سرحدی جارحیت، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، دشمن کی متعدد چوکیاں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان طالبان فتنہ الخوارج کو پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک ’اسٹریٹجک ایسٹ‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ سرحد پار اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔

سرحدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور دہشت گردانہ دھمکیوں کے بعد پاک فوج نے ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد ان محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا ہے جو پاکستانی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

طالبان رجیم کی دہری پالیسی اور اس کے نتائج

عبدالحمید خراسانی کی ویڈیو اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں صورتحال دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ان کا پورے افغانستان پر کنٹرول ہے، تو کنڑ جیسے اہم صوبے سے ایک دہشت گرد کمانڈر کا کھلم کھلا ویڈیو جاری کرنا ان کے دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ یہ ’نااہلی‘ نہیں بلکہ ’ملی بھگت‘ ہے۔

پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ثبوتوں کے باوجود عالمی خاموشی خطے میں دہشت گردی کے بڑے دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔ خراسانی کا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج اب صرف ایک گروہ نہیں رہا بلکہ وہ افغان رجیم کے زیرِ اثر ایک نیم فوجی دستے کی طرح کام کر رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت جب ایک ہمسایہ ملک اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کو روکنے میں ناکام رہے، تو متاثرہ ملک کو ’ہاٹ پرسیوٹ‘ اور دفاعی کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس تناظر میں ’آپریشن غضب للحق‘ نہ صرف جائز بلکہ پاکستان کی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

Related Articles