چین کے خطے کاشغر سے ملحقہ دنیا کے بڑے صحراؤں میں شمار ہونے والا تکلامکاں اب ایک کامیاب ماحولیاتی ماڈل بن چکا ہے۔ ماگاٹ کاؤنٹی میں 2012 میں شروع ہونے والا شجر کاری منصوبہ آج چودہ برس بعد ایک سرسبز جنگل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ریت کے طوفانوں پر قابو پانا اور علاقے کے سخت موسمی اثرات کو کم کرنا تھا، جس میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔
دورے پر گئے پاکستانی میڈیا اور تھنک ٹینکس کے وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کیلئے حکومت نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، جبکہ اب اس کی دیکھ بھال مقامی افراد کر رہے ہیں۔ زیر زمین پانی کی فراہمی کیلئے دو ہزار سے زائد پائپ بچھائے گئے، جس کے ذریعے صحرائی زمین کو قابلِ کاشت اور سرسبز بنایا گیا۔ اس منصوبے سے 23 کاؤنٹیز کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ مقامی آبادی کی زندگی میں واضح بہتری آئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی علاقے میں جدید زرعی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ کسانوں کو زمین کے ساتھ ساتھ کواڈ کاپٹرز جیسی ٹیکنالوجی دی گئی ہے، جس سے کپاس سمیت مختلف فصلوں کی کاشت ممکن ہو سکی ہے۔ سمارٹ ایگریکلچر کے ذریعے بنجر زمین کو زرخیز بنانا چین کی پالیسی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان اگر اس ماڈل سے فائدہ اٹھائے تو بلوچستان اور تھر جیسے بنجر علاقوں میں نہ صرف شجر کاری بلکہ جدید زراعت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ چین کے ساتھ اشتراک پاکستان کیلئے ماحولیاتی بہتری، خوراک کی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔