سمندر کی گہرائیوں میں ایک ایسی مخلوق موجود ہے جو انسانی تاریخ کے کئی بڑے دور دیکھ چکی ہے۔
یہ گرین لینڈ شارک ہے، جس کے بارے میں تحقیق بتاتی ہے کہ اس کی عمر تقریباً 400 سال سے بھی زیادہ ہو سکتی ہےاور یہ 1627 کے آس پاس پیدا ہوئی تھی۔ اسے زمین پر موجود سب سے طویل عمر پانے والا ریڑھ کی ہڈی والا جانور سمجھا جاتا ہے۔
یہ شارک انتہائی ٹھنڈے پانی، خاص طور پر آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس کے گہرے حصوں میں رہتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی زندگی کی رفتار بہت سست ہوتی ہےاس کی نشوونما، خوراک ہضم کرنے کا عمل اور حرکت سب کچھ عام سمندری مخلوقات کے مقابلے میں بہت آہستہ ہوتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس کی لمبی عمر کی بڑی وجہ اس کا سرد ماحول اور سست میٹابولزم ہے جس کی وجہ سے اس کا جسم بہت کم توانائی استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مخلوق صدیوں تک زندہ رہ سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شارک اس وقت سمندر میں تیر رہی تھی جب دنیا میں آئزک نیوٹن جیسے سائنسدان ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور انسانی تہذیب آج کی شکل میں موجود نہیں تھی۔
تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس کی عمر کا اندازہ اس کے جسم میں موجود مخصوص پروٹین اور ڈی این اے تجزیے سے لگایا گیا ہے، جو سائنس کے جدید طریقوں سے ممکن ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مخلوق قدرت کے اس راز کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زمین پر زندگی کے کئی ایسے پہلو ابھی بھی موجود ہیں جنہیں ہم مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے۔
مختصر یہ کہ یہ شارک صرف ایک جانور نہیں بلکہ سمندر کے اندر چلتی پھرتی تاریخ ہے، جو انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ فطرت کا وقت انسان کے وقت سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔