عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو بریک لگ گئی، قیمتوں میں بڑی کمی

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو بریک لگ گئی، قیمتوں میں بڑی کمی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اچانک بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر چھائے مہنگائی کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں 2 سے 3 فیصد تک ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکی کروڈ آئل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت 2.98 فیصد گرنے کے بعد 101.94 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ برینٹ کروڈ آئل بھی 2.02 فیصد کمی کے ساتھ 108.17 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورتحال

گزشتہ روز بھی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ برینٹ خام تیل 124 ڈالر کی بلند سطح سے کم ہوکر 114 ڈالر فی بیرل پر آگیا تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 110 ڈالر سے گر کر 104 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے کا خدشہ

مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 سال کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد اب قیمتوں میں استحکام اور بہتری کا رجحان غالب آ رہا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیوں ہوا؟

گزشتہ چند ماہ سے عالمی سیاسی تنازعات اور سپلائی چین میں تعطل کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

توانائی کے بحران نے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کیا، جس کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات پر پڑا۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کا 120 ڈالر سے تجاوز کر جانا ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک بڑا معاشی چیلنج بن گیا تھا۔

کیا یہ کمی مستقل ہے؟

تیل کی قیمتوں میں 2 سے 3 فیصد کی حالیہ کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں طلب اور رسد کا توازن بہتر ہو رہا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر شرح سود میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات کے باعث ہو سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار اب محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔

اگر قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے برقرار رہتی ہیں، تو پاکستان جیسے ممالک کیلئے درآمدی بل میں کمی اور افراط زر پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، جغرافیائی سیاسی صورتحال اب بھی ایک غیر یقینی عنصر کے طور پر موجود ہے۔

Related Articles