حکومت کی طرف سے پیٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے جس کے مطابق حکومت نے عالمی مارکیٹ سے پیٹرول کی مہنگے داموں خریداری ظاہر نہیں کی بلکہ حکومت کی طرف سے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں اضافہ کر کے ڈویلپمنٹ لیوی بڑھا دی ہے۔حکومت کے اس اقدام پر ملک بھر میں عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے
حکومتی اعلامیے کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں 13 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول پر مجموعی لیوی 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اگر حکومت چاہتی تو عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کا فائدہ براہ راست عوام کو دیا جا سکتا تھا مگر اس کے برعکس لیوی بڑھا کر پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عوامی حلقوں نے اس اقدام کو مہنگائی بم قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں نے زندگی مشکل بنا رکھی ہے، اب پیٹرولیم لیوی میں اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ کئی حلقوں نے حکومت سے فوری طور پر لیوی میں کمی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔