پاکستان دہشتگردی کے بجائے اب عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

پاکستان دہشتگردی کے بجائے اب عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال کر عالمی سطح پر ایک مؤثر اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب دنیا پاکستان کو دہشتگردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

لاہور میں معروف صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے 983 ویں غسل مبارک کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملکی معیشت، سفارت کاری اور مزارِ اقدس کی تاریخی توسیع سمیت مختلف قومی امور پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

داتا گنج بخشؒ کے مزار کی تاریخی توسیع کا منصوبہ

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع کا منصوبہ اس وقت جاری ہے، جس کا سہرا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سر جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو آج دنیا بھر میں پیس میکر اور ثالث ملک کے طور پر جانا جاتا ہے،اسحاق ڈار

انہوں نے روحانی اجتماعات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اللہ کی عبادت ہو رہی ہو، وہاں خدمت کا جذبہ اختیار کرنے سے ملک و قوم کے حالات بھی بہتر ہوتے ہیں۔

ایسے روحانی اجتماعات معاشرے میں محبت، اخوت، بھائی چارے اور استحکام کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

علاقائی کشیدگی اور پاکستان کا مصالحتی کردار

سفارتی محاذ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کو عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ پاکستان نے مختلف ممالک کے درمیان ثالثی اور مصالحت کے حوالے سے مثبت اور تعمیری کردار نبھایا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس پورے سفارتی عمل میں ٹیم کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف نے کی، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اداروں کی خدمات بھی ملک کو بحران سے نکالنے میں قابلِ تحسین رہیں۔

ایٹمی قوت سے معاشی قوت بننے کا سفر

نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ملکی دفاع اور معیشت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کی توفیق دی، جس کے بعد ملک نے اپنے میزائل پروگرام میں بھی نمایاں اور بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاعی طور پر ناقابلِ تسخیر بننے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ تمام تر توانائیاں صرف کر کے پاکستان کو ایک مضبوط معاشی قوت بھی بنایا جائے۔

معاشی اتار چڑھاؤ اور موجودہ حکومت کی ترجیحات

اسحاق ڈار نے ماضی کے معاشی اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2017 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار دنیا کے لیے حیران کن تھی اور ملک عالمی معیشتوں کی درجہ بندی میں 24 ویں نمبر تک پہنچ گیا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور غلط پالیسیوں کے باعث پاکستان 47 ویں پوزیشن تک گر گیا۔

مزید پڑھیں:ایرانی صدر پاکستان کے کامیاب دورے کے بعد واپس روانہ ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے رخصت کیا

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت نے معاشی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور گزشتہ برسوں میں پیدا ہونے والے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار پھر استحکام کی جانب گامزن ہے۔

حضرت علی ہجویریؒ کے مزار کا غسل لاہور کی دیرینہ ثقافتی اور مذہبی روایات کا حصہ ہے، جہاں ہر سال محرم الحرام کے مہینے میں عرقِ گلاب سے مزار کو غسل دیا جاتا ہے۔ اس تقریب میں ملک بھر سے سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات شرکت کرتی ہیں۔

سفارتی اور معاشی پس منظر کے لحاظ سے، پاکستان گزشتہ چند برسوں سے شدید معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے دباؤ کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے عالمی درجہ بندی میں ملک کی پوزیشن متاثر ہوئی۔

موجودہ مخلوط حکومت، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے معاشی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 2017 کی معاشی پوزیشن کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔

Related Articles