ملک بھر میں 9 محرم الحرام کے ماتمی جلوس عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے، جبکہ عزاداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد میں 9 محرم کا مرکزی جلوس نمازِ ظہر کے بعد مرکزی اثنا عشری امام بارگاہ جی-6/2 سے برآمد ہوا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں لقمان حکیم روڈ، جی-6 سروس روڈ، صدر روڈ، جی-6/1 کی گلی نمبر 33 اور 40، میونسپل روڈ، میلوڈی چوک، شہداء چوک، آبپارہ تھانہ اور پولی کلینک سے ہوتا ہوا دوبارہ لقمان حکیم روڈ پہنچا۔ حضرت امام حسینؑ اور ان کے اہلِ خانہ کی اسلام کے لیے عظیم قربانی کی یاد میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ جلوس رات گئے اپنے مقررہ راستے مکمل کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔
لاہور
لاہور میں 9 محرم کا مرکزی جلوس پانڈو اسٹریٹ اسلام پورہ سے برآمد ہوا۔ جلوس سراج بلڈنگ، اسلام پورہ چوک، نیلی باغ چوک اور دیگر مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اولڈ انارکلی، اے جی آفس اور بابا موج دریا روڈ کے ذریعے امام بارگاہ خیمۂ سادات پہنچا۔ خیمۂ سادات میں مجلسِ عزا اور نمازِ مغرب کے بعد جلوس دوبارہ روانہ ہوا اور واپس پانڈو اسٹریٹ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
شہر میں دوسرا بڑا شبیہِ ذوالجناح جلوس امام بارگاہ قصرِ بتول شادمان سے اپنے روایتی راستوں پر نکالا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
کوئٹہ
کوئٹہ میں 9 محرم کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ ناصر العزا پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ سیکیورٹی کے لیے راستوں کو ٹرکوں اور خاردار تاروں کے ذریعے بند کیا گیا تھا جبکہ پولیس، فرنٹیئر کور اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات تھے۔ حکام کے مطابق جلوس کے راستوں اور اطراف میں تقریباً 8 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ سیف سٹی کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے بھی نگرانی کی گئی۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے سات اضلاع میں رات 8 بجے تک موبائل فون سروس معطل رہی جبکہ دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی۔
کراچی
کراچی میں نشتر پارک میں مرکزی مجلسِ عزا سے خطاب کے بعد مرکزی جلوس پاک حیدری اسکاؤٹس کی قیادت میں برآمد ہوا اور مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانی امام بارگاہ کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے عزاداروں نے نمازِ ظہر ادا کی۔ انتظامیہ نے اطراف کی سڑکوں اور گلیوں کو کنٹینرز لگا کر بند رکھا جبکہ جلوس کے راستے میں آنے والی دکانیں اور بازار تین روز کے لیے بند رہے۔
حیدرآباد میں 9 محرم کا مرکزی جلوس گلدستہ اکبر ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام لطیف آباد نمبر 5 سے برآمد ہوا۔ جلوس سے قبل مجلسِ عزا بھی منعقد کی گئی۔ جلوس اپنے روایتی راستوں پر گامزن رہا اور شام کے وقت اختتام پذیر ہونا تھا۔ جلوس میں علم عباس، شبیہِ ذوالجناح، شبیہِ تابوت، شبیہِ جھولہ اصغر اور دیگر علامات شامل تھیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس، رینجرز اور اسکاؤٹس کے اہلکار تعینات تھے۔
پشاور
پشاور میں 9 محرم کا مرکزی جلوس حسینیہ ہال صدر سے برآمد ہوا اور اپنے مقررہ راستوں پر گامزن رہا۔ جلوس کا اختتام اسی امام بارگاہ میں ہونا تھا۔ سیکیورٹی کے لیے 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
سجاول
سجاول میں ماتمی جلوس کہری امام بارگاہ سے برآمد ہوا اور روایتی راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینی تک پہنچنا تھا۔ عزاداروں کے لیے راستے میں سبیلوں کا اہتمام کیا گیا تھا جبکہ سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ ایس ایس پی سجاول علینہ راجپر نے سیکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کی۔ شہر کے مختلف مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے تھے اور مرکزی بازار میں قائم کنٹرول روم سے جلوس کی نگرانی کی جاتی رہی۔