گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک میں زرعی انقلاب لانے کے خواب کی تعبیر سامنے آنے لگی ہے۔ پنجاب کے ضلع بھکر میں ریت کے ٹیلوں پر مشتمل 1800 ایکڑ بنجر زمین کو محض 60 دن کی قلیل مدت میں ایک جدید ترین زرعی اور برآمدی فارم میں تبدیل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی گئی ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو کا یہ منصوبہ نہ صرف غذائی خودکفالت بلکہ زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔
قلیل مدت میں عظیم کامیابی
پینٹیرا لمیٹڈ کے سی ای او فرقان علی اختر کے مطابق اس بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے۔ فارم پر آبپاشی کے لیے 13 سینٹرل پیوٹ سسٹمز نصب کیے گئے ہیں جبکہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 2.4 میگاواٹ کا ہائبرڈ سولر سسٹم فعال کیا گیا ہے، جو ماحول دوست زراعت کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ریت کے ٹیلوں سے لہلہاتی فصلوں تک
پینٹیرا فارمز کے چیف آپریٹنگ آفیسر فاروق سعید نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 4 ماہ قبل تک یہ زمین 20 سے 50 فٹ بلند ریت کے ٹیلوں پر مشتمل تھی۔
آج اس 1800 ایکڑ میں سے 1300 ایکڑ رقبہ مکمل طور پر زیرِ کاشت ہے، یہاں گندم اور روڈز گراس اگائی جا رہی ہے، جس میں سے روڈز گراس کی برآمدات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
جی پی آئی اور بین الاقوامی اشتراک
فاروق سعید نے واضح کیا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کی مکمل معاونت اور انفراسٹرکچر سپورٹ کے بغیر یہ منصوبہ ممکن نہ تھا۔ ’گرین ایگری مال‘ کے ذریعے کسانوں کو معیاری بیج اور کھاد کی شفاف فراہمی ممکن ہوئی ہے۔
مزید برآں چینی کمپنیوں کے اشتراک سے پاکستان میں پہلی بار جدید ‘ہائبرڈ بیج’ متعارف کرائے گئے ہیں، جو فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں کئی گنا اضافے کا باعث بنیں گے۔
گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کیا ہے؟
گرین پاکستان انیشیٹو کا آغاز ملک میں خوراک کے تحفظ (فوڈ سیکیورٹی) کو یقینی بنانے اور بنجر زمینوں کو زیرِ کاشت لا کر زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد زراعت میں جدید ٹیکنالوجی غیر ملکی سرمایہ کاری اور کارپوریٹ فارمنگ کو فروغ دینا ہے۔ بھکر کا یہ منصوبہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے ثابت کر دیا کہ حکومتی سرپرستی اور جدید سائنسی طریقوں سے ریگستانوں کو بھی سرسبز بنایا جا سکتا ہے۔
معاشی اثرات اور مستقبل کا نقشہ
بھکر کے اس کامیاب ماڈل کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے، روڈز گراس کی برآمد سے زرمبادلہ حاصل ہوگا، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
چینی کمپنیوں کے ساتھ ہائبرڈ بیج کا اشتراک پاکستان کے زرعی شعبے میں تحقیق اور پیداوار کے نئے در وا کرے گا۔ 2.4 میگاواٹ کے سولر سسٹم کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ اب زراعت مہنگے تیل یا بجلی پر انحصار کرنے کے بجائے پائیدار ذرائع کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ بنجر زمینوں کی آبادی سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔