پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سنگِ میل ’معرکہ حق‘ کی کامیابی کو 1 سال مکمل ہونے پر آج پورے ملک میں جشن کا سماں ہے۔
وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پروقار تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں شہری اپنے محافظوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ ان تقریبات کا مرکز پشاور رہا، جہاں تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر جوش و خروش دیدنی تھا۔
اسلامیہ کالج میں دوستانہ کرکٹ میچ اور پاک فوج کی شرکت
میچ کے دوران پورا گراؤنڈ ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونجتا رہا۔ اساتذہ، طلبہ اور فوجی حکام کی بڑی تعداد نے میچ دیکھ کر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب کے آخر میں مہمانِ خصوصی نے بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو ٹرافیاں اور انعامات دیے۔
نونہالانِ وطن کا ولولہ اور ٹیبلوز
پشاور کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی رنگا رنگ پروگرام منعقد ہوئے۔ ننھے طلبہ نے پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی اور ملی نغموں پر خوبصورت ٹیبلوز پیش کیے۔ بچوں کے جذبوں نے حاضرین کے دل جیت لیے، جبکہ پاک فوج کے افسران نے ان بچوں کو ملک کا روشن مستقبل قرار دیتے ہوئے ان کی ہمت افزائی کی۔
معرکہ حق کیا تھا؟
’معرکہ حق‘ وہ فیصلہ کن فوجی و قومی آپریشن اور جذبہ تھا جو ٹھیک 1 سال قبل بھارت کو افواج پاکستان نے جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 3 گھنٹوں میں ناکوں چنے چبوا دیے تھے اور تاریخی فتح حاصل کرکے پاکستان کو دُنیا میں ایک نئی طاقت کے طور پر پیش کر دیا تھا۔
اس معرکے میں پاک فوج نے بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ بھارت کا غرور خاک میں ملایا۔ اس کامیابی نے ملک میں معاشی اور سماجی استحکام کی بنیاد رکھی، یہی وجہ ہے کہ آج پوری قوم اس دن کو ’جشنِ فتح‘ کے طور پر منا رہی ہے۔
قومی یکجہتی اور مستقبل کے اثرات
معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کی یہ تقریبات محض جشن نہیں بلکہ ایک پیغام ہیں کہ محب وطنی اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے عوام اور فوج کا رشتہ لازوال ہے، قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اسلامیہ کالج جیسے اداروں میں مشترکہ سرگرمیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔
اس طرح کی تقریبات سے قوم کے مورال میں اضافہ ہوتا ہے اور دشمن کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دفاع کے لیے متحد ہے۔
تعلیمی اداروں میں کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کی واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ معرکہ حق کے ثمرات اب عام شہری تک پہنچ رہے ہیں۔ ملکی سلامتی کے لیے کی جانے والی دعائیں اس عزم کی تجدید ہیں کہ استحکامِ پاکستان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔