جاپان میں سائنسدانوں نے ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو انسان کے خوابوں کو ریکارڈ کر کے انہیں دوبارہ دیکھنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق یہ جدید ڈیوائس دماغی سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے فکشنل میگنیٹک ریزوننس امیجنگ( ایف ایم آر آئی ) اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نیند کے دوران دماغ میں ہونے والی سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور بعد میں انہیں تصویری شکل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جاپان کے شہر کیوٹو میں موجوداے ٹی آر کمپیوشنل نیورو سائنس لیبارٹریز کے سائنسدانوں نے ایک تحقیق کے دوران رضاکاروں کے خواب اور ابتدائی نیند کے دوران ان کی دماغی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے، لیکن اس نے سائنسی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا مستقبل میں انسان اپنے خوابوں کو فلموں کی طرح دیکھ سکیں گے۔
سوشل میڈیا صارفین اس خیال کو حیران کن اور دلچسپ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میدان میں ابھی مزید تحقیق اور بہتری کی ضرورت ہے۔