ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور باضابطہ جواب جلد پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو بھجوایا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی کی امریکی تجاویز کے ساتھ ان پیغامات کے متن کا بھی بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے ابھی تک امریکی تجاویز کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم تجاویز کا تفصیلی جائزہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو اپنے خیالات سے آگاہ کیا جائے گا، جو بعد ازاں امریکا تک پہنچائے جائیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی سے متعلق تجاویز اب مختصر ہو کر ایک صفحے تک محدود رہ گئی ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ جسے امریکا نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا اب ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے شروع کیے گئے “پراجیکٹ فریڈم” کو روکنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے مذاکرات میں پیشرفت کے اشارے ملنے کے بعد کیا۔
ادھر سفارتی حلقوں میں پاکستان کے کردار کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ بحران کے دوران اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے متحرک سفارتکاری جاری رکھی۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی یا کسی وسیع معاہدے پر پیشرفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔