’معرکہ حق‘ میں محض 10 فیصد طاقت دکھائی، 14 اگست کو پریڈ ہوگی، قوم کو پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک دکھائیں گے، ترجمان پاک فوج

’معرکہ حق‘ میں محض 10 فیصد طاقت دکھائی، 14 اگست کو پریڈ ہوگی، قوم کو پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک دکھائیں گے، ترجمان پاک فوج

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ) آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی جارحیت کے خلاف ’معرکہ حق میں کا ایک سال مکمل ہونے پر افواج پاکستان کی طرف سے قوم کو مبارکباد دی ہے۔

جمعرات کو معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پردونوں مسلح افواج کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، لیکن ’معرکہ حق‘ کے دوران پاکستان نے دشمن کو ایک عبرتناک شکست دے کر اس بیانیے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاستدانوں نے اپنی بے بنیاد زبان استعمال کی، مگر افواج پاکستان نے بھارتی الزامات اور پروپیگنڈے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔

بھارت خود سب سے بڑا دہشتگرد ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت نے دہشتگردی کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کے خلاف کیے گئے ان حملوں میں کسی کامیابی کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوں نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت خود سب سے بڑا دہشتگرد ہے اور اس نے مساجد، سویلین، بچوں اور عورتوں کو بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔

پاکستانی افواج نے بھارت کو 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ خطے میں امن کی سب سے بڑی سفیر ہے، اور دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو خطے میں امن کے لیے مستقل کوششیں کر رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت کو سخت ترین پیغام دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افواج، قیادت اور عوام ایک پیج پر متحد ہیں اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا‘ اور افواجِ پاکستان اللہ کے فضل سے ہمیشہ قوم کی امنگوں پر پورا اتری ہیں۔

بھارتی جارحیت کا جواب

ڈی جی آئی ایس پی آر نے حال ہی میں ہونے والی بھارتی جارحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے دشمن کی مہم جوئی کا محض چند گھنٹوں میں مؤثر ترین جواب دے کر ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔

انہوں نے 2 جوہری ریاستوں کے درمیان محاذ آرائی کو ’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، لیکن بھارت کو اپنی اوقات میں رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق بھارتی سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں جو خطے کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

مسئلہ کشمیر اور بھارتی مظالم

کشمیر کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی سطح پر حل طلب مسئلہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی واضح قراردادیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی بنا کر پیش کرنے کا ماہر ہے۔ وہ اپنی اقلیتوں اور کشمیریوں پر ہونے والے بدترین ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے مکارانہ بیانیے تراشتا ہے‘۔

دہشت گردی اور بھارتی میڈیا کا کردار

ترجمان پاک فوج نے بھارت کو نصیحت کی کہ وہ مکارانہ بیانیے بنانے کے بجائے سچ بولنے کی جرات پیدا کرے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کاش بھارتی میڈیا کبھی سچ بولنے کی ہمت دکھا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان مکاری سے جھوٹا بیانیہ بنا کر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے اور مسائل کم کرنے کے بجائے مسلسل بڑھا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج اور قیادت کے نام نہاد بیانیوں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کے آپریشنل ناموں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’پتہ نہیں بھارتی فوج ’سندور‘ سے کیوں نہیں نکلتی، کوئی مردانہ نام رکھ لیں، سندور تو خواتین لگایا کرتی ہیں‘۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم دشمن کی ہر چال کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

صلاحیتوں پر شک ہے تو ’دوسری قسط‘ کے لیے آ جائیں

بھارتی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اگر کسی کو ہماری صلاحیتوں پر شک ہے تو اس کی ایک قسط ہم ’ معرکہ حق‘ کی صورت میں چلا چکے ہیں، اگر دوسری قسط دیکھنی ہے اور ہمیں آزمانا ہے تو پھر سامنے آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پروفیشنل آرمی اب مکمل طور پر ’سیاست زدہ‘ ہو چکی ہے جو اپنے ہی لوگوں پر دہشتگردی کرا کے الزام دوسروں پر تھوپ دیتی ہے۔

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پراکسیز معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ ہم ’ پری سائز اسٹرائیکس‘ (درست نشانے) کرتے ہیں۔

آپریشن ‘غضب للحق’ سے سرحد پار پراکسیز کی صلاحیت میں واضح کمی آئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات کم ہوئے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ صرف دشمن کا ایجنڈا ہے۔

لاہور میں پورٹ کہاں ہے؟

بھارتی پروپیگنڈے کا مذاق اڑاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج لاہور میں پورٹ پر حملے کے مضحکہ خیز دعوے کر رہی ہے، یہاں تک کہ ہماری نیوی والے بھی پوچھتے ہیں کہ ’لاہور میں پورٹ کہاں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب بھارتی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں تو فخر سے دنیا کو دکھاتے بھی ہیں، بھارت کی طرح جھوٹ بول کر چھپاتے نہیں ہیں۔

’معرکہ حق‘ تو پاور پوٹینشل محض 15 فیصد تھا

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نے اپنی پریس کانفرنس میں دشمنوں کو آخری انتباہ جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ’معرکہ حق‘ میں جو دفاعی صلاحیت دنیا نے دیکھی، وہ پاکستان کی مجموعی ’پاور پوٹینشل‘ کا محض 10 سے 15 فیصد تھی، اصل طاقت کا مظاہرہ ابھی باقی ہے۔

14 اگست کی پریڈ اور ’پاور پوٹینشل‘ کی جھلک

آنے والے جشنِ آزادی کے حوالے سے انہوں نے ایک بڑا اعلان کیا اور کہا کہ 14 اگست کو ملک میں ایک بڑی فوجی پریڈ منعقد کی جائے گی۔ اس پریڈ میں پاکستان کی پاور پوٹینشل کی ایک چھوٹی سی جھلک دکھائی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سخت لہجے میں کہا کہ ’مقصد یہ ہے کہ وہ بعد میں یہ نہ کہیں کہ بتایا نہیں تھا‘، ہم اپنی سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے‘۔

‘فیلڈ مارشل’ کا خوف اور افغان حکام کا کردار

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی نفسیات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارتیوں کو دن رات ’فیلڈ مارشل‘ اور پاکستان کے خواب آتے ہیں، ہر وقت ان کی زبان پر فیلڈ مارشل کا نام رہتا ہے۔’ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی تو افغانستان کا وہ خود ساختہ وزیر جو اسلام کا نام نہاد دعویدار بنتا ہے، وہ بھاگا بھاگا بھارت گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مذہب کے نام پرعام شہریوں کو بے وقوف بناتے ہیں جبکہ ان کے مفادات دشمنوں کے ساتھ جڑے ہیں۔

معرکہ حق، پاک نیوی کا متحرک کردار، ہماری بندرگاہیں فعال اور ساحل محفوظ رہے، ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان

ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اپنی جس بحری طاقت پر بہت ناز تھا، وہ پاک بحریہ کے عزم کے سامنے بے بس نظر آئی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کشیدگی کے دوران بھارت نے اپنا بحری بیڑہ تعینات کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن پاک بحریہ کی مستعدی کے باعث اسے جارحیت کی ہمت نہ ہو سکی۔

سمندری حدود کا دفاع اور بھارتی خفت

ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے بتایا کہ بھارتی بحریہ تمام تر جدید ساز و سامان سے لیس ہونے کے باوجود ہمارے پانیوں کا رخ کرنے کی جرات نہ کر سکی۔ ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں، دشمن کی دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی تمام بندرگاہیں فعال رہیں اور ساحلی تنصیبات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی ناکامی اور خفت مٹانے کے لیے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سہارا لیا، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پاک بحریہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو دن بدن جدید اور بہتر بنا رہی ہے تاکہ کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

عالمی سمندروں میں انسانی ہمدردی اور منشیات کے خلاف کارروائیاں

ریئر ایڈمرل نے پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ برتری کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ عمان کے قریب ایک بحری جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔

اس وقت بھارت کا جہاز جائے وقوعہ سے محض 30 میل کے فاصلے پر تھا لیکن وہ مدد کو نہ پہنچا، جبکہ پاک بحریہ کا جہاز 130 میل دور ہونے کے باوجود وہاں پہنچا، نہ صرف آگ بجھائی بلکہ عملے کے ارکان کو بھی بحفاظت ریسکیو کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران پاک بحریہ نے سمندر میں منشیات کے خلاف بڑے آپریشنز کیے، جن میں پکڑی گئی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 1.3 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے۔

معرکہ حق، پاک فضائیہ نے بھارت کے 8 طیارے مار گرائے، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف طارق بخاری

ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف طارق بخاری نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ’معرکہ حق‘ کے دوران پاک فضائیہ کی تاریخی کامیابیوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کی ہر سرگرمی کو باریک بینی سے نوٹ کیا اور پہلی بار ’ملٹی ڈومین آپریشنز‘ کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے بھارت کو اپنی فورسز ’ری الائن‘ کرنے پر مجبور کر دیا۔

8 بھارتی طیارے مار گرائے

پاک فضائیہ ڈپٹی چیف نے دشمن کے نقصانات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھارت کے مجموعی طور پر 7 جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ ان میں 4 رافیل طیارے (بھارت کا جدید ترین فضائی اثاثہ)، 1 ایس یو 30 (سخوئی)، 1 مگ 29، 1 میراج 2000 شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پاک فضائیہ نے بھارت کا ایک قیمتی ’ملٹی رول ان مینڈ ایریل سسٹم‘ (بغیر پائلٹ طیارہ) بھی مار گرایا۔ ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف نے فخر سے کہا کہ ’بھارت کے خلاف ہمارا اسکور اب 0-8 ہو چکا ہے‘۔

مواصلاتی نظام کی تباہی اور بارڈر سیف گارڈ

ایئر وائس مارشل طارق بخاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف دشمن کے طیارے گرائے بلکہ ان کا ’کمیونیکیشن سسٹم‘ (مواصلاتی نظام) بھی مکمل طور پر ناکارہ کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سرحدوں پر ایسا مضبوط دفاعی حصار قائم کیا کہ دشمن ہمارے بارڈر کی جانب حرکت کرنے کی جرات بھی نہ کر سکا۔

Related Articles