حق مہر میں جائیداد کی منتقلی، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری

حق مہر میں جائیداد کی منتقلی، سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے ایک کلیدی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی شخص مشترکہ جائیداد میں اپنے حصے سے زیادہ حصہ منتقل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ شوہر صرف اپنی ذاتی ملکیت یا مشترکہ جائیداد میں اپنے قانونی حصے کی حد تک ہی جائیداد حق مہر میں دے سکتا ہے۔

یہ فیصلہ پشاور کی رہائشی نگہت میانداد کے کیس میں سامنے آیا، جنہوں نے اپنے سابق شوہر اور ساس کے خلاف پورے گھر کا قبضہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت ہم پلہ قرار،سپریم کورٹ کا ستائیسویں ترمیم کے بعد اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ

اگرچہ ٹرائل کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پورے گھر کو حق مہر میں لکھنا دیگر ورثا کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس گھر میں شوہر کے علاوہ دیگر حصے دار بھی موجود تھے۔

عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ورثاء کی درخواست خارج کرتے ہوئے قانونی فورم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

کیس کی تفصیلات

اس کیس کی بنیاد ایک خاندانی تنازع پر ہے جس نے کئی قانونی موڑ لیے، نگہت میانداد نے نکاح نامے میں درج گھر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا۔

نکاح کے وقت پورے گھر کو حق مہر کے طور پر درج کیا گیا تھا، جبکہ وہ گھر مشترکہ خاندانی جائیداد تھی۔ ٹرائل کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا، لیکن شوہر کی والدہ اور دیگر ورثا نے مؤقف اپنایا کہ شوہر پورا گھر دینے کا مجاز ہی نہیں تھا کیونکہ وہ تنہا اس کا مالک نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ ورثاء کو ہائیکورٹ کے بجائے ٹرائل کورٹ میں ہی اپنا موقف پیش کرنا چاہیے تھا جہاں سے اصل فیصلہ جاری ہوا۔

نکاح نامے کی قانونی حیثیت اور ورثاء کے حقوق

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ معاشرتی اور قانونی سطح پر کئی اہم اصلاحات کی بنیاد بنے گا، یہ فیصلہ اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ ’کوئی شخص وہ چیز منتقل نہیں کر سکتا جس کا وہ خود مکمل مالک نہ ہو‘۔ مہر میں جائیداد لکھتے وقت اکثر لوگ جذبات یا دباؤ میں آکر پورے گھر کا ذکر کر دیتے ہیں، جو بعد میں دیگر بھائیوں یا والدین کے حقوق سے متصادم ہو جاتا ہے۔

عدالت نے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں پر بھاری ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ جائیداد کا اندراج کرنے سے پہلے ملکیت کے کاغذات کی تصدیق کریں۔ یہ ایک انقلابی ہدایت ہے جو ہزاروں مستقبل کے تنازعات کو ختم کر سکتی ہے۔

نکاح نامے میں ملکیت کی تصدیق کے لیے علیحدہ کالم کی تجویز ایک انتظامی ضرورت بن چکی ہے۔ اس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا جائیداد شوہر کی ذاتی ہے، وراثتی ہے یا ابھی اس کی تقسیم ہونا باقی ہے۔

Related Articles