معرکۂ حق کی سالگرہ پر لیگو اسٹائل ویڈیو وائرل،سوشل میڈیا پر نئی بحث

معرکۂ حق کی سالگرہ پر لیگو اسٹائل ویڈیو وائرل،سوشل میڈیا پر نئی بحث

معرکہ حق کی سالگرہ کی مناسبت سے چین کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک لیگو اسٹائل اینی میٹڈ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے ۔ ویڈیو میں پہلگام فالس فلیگ اور آپریشن بنیان مرصوص  کو علامتی انداز میں دکھایا گیا ہے جس کے بعد آن لائن بحث میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین اسے چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوستی اور یکجہتی کا علامتی اظہار قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ محض ایک تخلیقی اینی میشن ہے جس میں مختلف واقعات کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ویڈیو میں معرکۂ حق اور اس سے جڑے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہےاور اس کے پس منظر کو پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :معرکۂ حق کے بعد پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ، بھارتی بیانیے کی کمزوریاں دنیا کے سامنے واضح ہوگئیں ، رضوان سعید

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقے اس پر مختلف آرا دے رہے ہیں۔ کچھ صارفین اسے چین کی جانب سے پاکستان دوستی کوایک علامتی سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ محض ایک تخلیقی اینی میشن ہے جس میں مختلف واقعات کو فنکارانہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔

میڈیازرائع کے مطابق جاری کردہ ویڈیو میں بھارت کی جانب سے فالس فلیگ پہلگام واقعہ کی آڑ میں کیے گئے آپریشن  سندورکا نہ صرف خوبصورتی سے بھاندا پھوڑا گیا بلکہ بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کو بھی بےنقاب کیا گیا۔ جبکہ پاکستان کی جانب سے لانچ کیے گئےجوابی آپریشن بنیان مرصوص کی خوبصورتی سے منظر کشی کی گئی۔اسی تناظر میں پاکستان ائیرفورس کےشاہینوں  8-0 کی دلچسپ فضائی معرکے کی  کہانی کو بھی دہرایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :فلسطین کے حق میں بولنے پر ہالی ووڈ اداکارہ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑ گیا

ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق ایسے وائرل مواد اکثر جذباتی اور سیاسی ردعمل کو جنم دیتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر دعوے کو مستند ذرائع سے پرکھا جائے۔

اس تمام بحث کے درمیان ایک بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، اور یہی اعتماد و تعاون اس خطے میں ایک پائیدار شراکت داری کی بنیاد ہے۔ یہی دوستی اس پورے بیانیے کا سب سے مضبوط پہلو سمجھی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles