وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ صوبوں کے ساتھ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے ہٹ کر جو انتظامات کیے گئے ہیں وہ باہمی مشاورت کے تحت ہیں اور این ایف سی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صوبوں کی رضامندی، اتفاق رائے اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو درپیش مالی چیلنجز کے دوران صوبوں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر وفاق ان کا شکر گزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ ایک آئینی معاملہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا نئی پیش رفت صوبوں کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک اس وقت غیر معمولی سیکیورٹی اور معاشی حالات سے گزر رہا ہے جبکہ 2 سرحدیں فعال ہونے کے باعث دفاعی اور مالیاتی دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے حالات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون ناگزیر ہے تاکہ معاشی استحکام کے اہداف حاصل کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن اور رہنمائی کا عکاس ہے۔ بجٹ کی تیاری کے دوران اتحادی جماعتوں، تمام صوبائی حکومتوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مسلسل مشاورت کی گئی تاکہ ایسی مالی حکمت عملی ترتیب دی جاسکے جو ایک طرف معیشت کو استحکام دے اور دوسری طرف عوام پر اضافی بوجھ بھی نہ پڑے۔
ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب ذمہ داریاں سنبھالیں تو سالانہ ریونیو کلیکشن تقریباً 7 ٹریلین روپے کے قریب تھی، تاہم مالی نظم و ضبط، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس نظام میں بہتری کے باعث رواں مالی سال کے اختتام تک محصولات 13 ٹریلین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولی کا ہدف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد اور انفورسمنٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
نئے ٹیکس نہیں، انفورسمنٹ پر زور
وزیر خزانہ نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے بجٹ میں بڑے پیمانے پر نئے ٹیکس لگانے کے بجائے موجودہ ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر توجہ دی ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں محصولات بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کیے جاتے تھے کیونکہ انفورسمنٹ کا نظام کمزور تھا، تاہم اب حکومت کی توجہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور وصولیوں کے نظام کو مضبوط بنانے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں شامل اقدامات مکمل منصوبہ بندی اور مخصوص اہداف کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔ برآمدی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر سپر ٹیکس کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں جبکہ ٹیکسیشن، توانائی، سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے شعبوں کے لیے جامع پیکج متعارف کرایا گیا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے افراد پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بجٹ میں نچلے درجے کی آمدنی رکھنے والے ملازمین کے لیے ٹیکس شرحوں میں کمی اور بڑی سلیب پر عائد سرچارج کے خاتمے جیسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی کے پورے عمل کے دوران اتحادی جماعتوں اور صوبوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی تاکہ فیصلوں پر وسیع سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) پاکستان کا آئینی فورم ہے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کا طریقہ کار طے کرتا ہے۔
آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ وقتاً فوقتاً تشکیل دیا جاتا ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔
سنہ 2010 میں نافذ ہونے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے تحت صوبوں کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے نئے این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے پیدا کرنا مختلف حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے بلند مہنگائی، مالی خسارے، زرمبادلہ کے محدود ذخائر اور قرضوں کی ادائیگی جیسے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں نظم و ضبط اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کیا جائے۔
اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اصلاحاتی پروگرام جاری رکھا ہوا ہے جبکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کو اقتصادی پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے بیان کے کیا معنی ہیں؟
پہلا یہ کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کے حساس معاملے پر صوبوں کو اعتماد میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ کسی سیاسی یا آئینی تنازع سے بچا جاسکے۔
دوسرا یہ کہ حکومت اب ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے نئے ٹیکس لگانے کے بجائے انفورسمنٹ اور دستاویزی معیشت پر انحصار کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہی تو کاروباری برادری اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر بھی محصولات میں اضافہ ممکن ہوسکتا ہے۔
تیسرا اہم پہلو تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یہی طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ برداشت کرتا رہا ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے اس کے لیے ریلیف سیاسی اور معاشی دونوں حوالوں سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
تاہم اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ٹیکس چوری، غیر دستاویزی معیشت اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے بنیادی مسائل پر کس حد تک قابو پاتی ہے۔