بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال کے چند دنوں بعد فلموں میں ہیرو کا کردار نبھانے والے سی جوزف وجے نے بطور نئے وزیر اعلیٰ حلف اٹھایا ہے اور اپنے منفرد انداز سے انہوں نے لوگوں کو گرویدہ بنا لیا ہے ۔
وجے کو تامل ناڈو کے نوجوانوں اور خواتین میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہے اور ان کی جیت سے اُن کے مداح خوشی سے نہال ہیں، ان کی پارٹی تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) اسمبلی میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے۔
حال ہی میں وزیراعلی جوزف وجے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بے حد وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں مسجد میں مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھا جاسکتا ہے
اس ویڈیو نے جہاں بھارتی مسلمانوں کو خوش کیا ہے وہیں دنیا بھر سے ان کے اس اقدام کی تعریفیں کی جارہی ہیں ۔
خیال رہے کہ وجے نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت حقیقی، سیکولر اور سماجی انصاف کے نظریات پر عمل پیرا ہوگی ، وہ ہمیشہ ہندوؤں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان کا نظریہ ہے کہ ’ہر مذہب ہمارا ہے‘۔
اس سے قبل نئے وزیراعلیٰ نے ریاست میں خواتین کے تحفظ کے لیے سپیشل فورس بنانے اور انسداد منشیات کے حکم نامے پر بھی دستخط کیے ہیں۔
وجے نے 2026 کے انتخابات سے قبل اپنی فلمی زندگی کو خیرباد کہہ دیا تاکہ وہ مکمل طور پر عوامی خدمت اور سیاست پر توجہ دے سکیں۔ وہ تامل ناڈو کی تاریخ میں 1967 کے بعد پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے ’ڈی ایم کے‘ اور ’اے آئی اے ڈی ایم‘ کے کے تسلط کو ختم کر کے اقتدار حاصل کیا ہے۔