بلدیاتی انتخابات میں حکمران لیبر پارٹی کی بدترین شکست کے بعد وزیراعظم پر استعفے کیلئے دباؤ تیزی سے بڑھنے لگا ہے جبکہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب نائب وزیراعظم سمیت اہم کابینہ اراکین بھی ان کے خلاف کھل کر سامنے آگئے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی اور وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 70 سے زائد اراکین پارلیمنٹ بھی وزیراعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ 5 پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
سیاسی بحران کے دوران وزیرخارجہ ایویٹ کوپر نے بھی وزیراعظم کو اقتدار کی منظم منتقلی کا مشورہ دے دیا ہے جس کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوگیا ہے کہ پارٹی کے اندر اسٹارمر کی حمایت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے پارٹی لیڈر کے انتخاب کیلئے باضابطہ تحریک چلانے کیلئے 81 اراکین کی حمایت درکار ہوگی جبکہ پارٹی کے اندر اس حوالے سے رابطے اور مشاورت تیز ہو گئی ہے۔
آج برطانوی کابینہ کا انتہائی اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کیئر اسٹارمر کے سیاسی مستقبل اور ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر غور کیا جائے گا۔ اگر دباؤ اسی طرح بڑھتا رہا تو برطانیہ میں جلد بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو 1400 سے زائد نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تجزیہ کار اس شکست کی بڑی وجوہات مہنگائی معاشی دباؤ اور امیگریشن پالیسی کو قرار دے رہے ہیں، جن پر عوامی ناراضی مسلسل بڑھ رہی تھی۔
سیاسی ماہرین کے مطابق کیئر اسٹارمر کیلئے سب سے بڑا خطرہ اب اپوزیشن نہیں بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر بڑھتی بغاوت بن چکی ہے، اور آنے والے چند روز برطانوی سیاست کیلئے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم ڈیوڈ لیمی اور وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کیئر اسٹارمر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 70 سے زائد اراکین پارلیمنٹ بھی وزیراعظم سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ 5 پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
سیاسی بحران کے دوران وزیرخارجہ ایویٹ کوپر نے بھی وزیراعظم کو اقتدار کی منظم منتقلی کا مشورہ دے دیا ہے جس کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوگیا ہے کہ پارٹی کے اندر اسٹارمر کی حمایت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
نئے پارٹی لیڈر کے انتخاب کیلئے باضابطہ تحریک چلانے کیلئے 81 اراکین کی حمایت درکار ہوگی جبکہ پارٹی کے اندر اس حوالے سے رابطے اور مشاورت تیز ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج برطانوی کابینہ کا انتہائی اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں کیئر اسٹارمر کے سیاسی مستقبل اور ممکنہ قیادت کی تبدیلی پر غور کیا جائے گا۔ اگر دباؤ اسی طرح بڑھتا رہا تو برطانیہ میں جلد بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو 1400 سے زائد نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تجزیہ کار اس شکست کی بڑی وجوہات مہنگائی، معاشی دباؤ اور امیگریشن پالیسی کو قرار دے رہے ہیں جن پر عوامی ناراضی مسلسل بڑھ رہی تھی۔