شمالی کوریا میں تعلیمی نظام میں پہلی بار متعارف کرائی جانے والی بڑی اصلاحات حکام کے لیے نئی پریشانی بن گئی ہیں، کیونکہ نئے امتحانی نظام میں بڑی تعداد میں طلبہ ناکام ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا نے 2026 میں پہلی مرتبہ سینئر مڈل اسکولوں میں انتخابی مضامین اور اسپیشلائزیشن ٹریک متعارف کرائے تھے تاکہ تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ تاہم ابتدائی نتائج حکومتی توقعات کے برعکس سامنے آئے، جس کے بعد حکمران جماعت ورکر پارٹی آف کوریا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے تعلیمی نظام کے تحت ہونے والے امتحانات میں طلبہ کی بڑی تعداد مطلوبہ معیار حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس پر حکام نے سخت ردعمل دیا ہے۔حکومتی اداروں کی جانب سے جاری انتباہ میں کہا گیا ہے کہ جو طلبہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں سزا کے طور پر کوئلے کی کانوں یا بڑے تعمیراتی منصوبوں پر مشقت کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ اور تعلیمی اداروں پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ نتائج بہتر بنائے جا سکیں اور نظام کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارٹی حکام نے مختلف صوبوں کے اسکولوں میں خصوصی معائنہ ٹیمیں بھی روانہ کر دی ہیں، جو امتحانی نتائج، تدریسی نظام اور ناکامی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔
گرچہ مقامی حکام ان اقدامات کو تعلیمی معیار بہتر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کے سخت اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی ناکامی کو جبری مشقت سے جوڑنا طلبہ کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کا یہ سخت طرز عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کو کس حد تک سیاسی اور ریاستی ترجیحات کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔