وفاقی دارالحکومت میں نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی کرنے والے ادارے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی نے والدین اور طلبہ کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم اور سخت فیصلے کرتے ہوئے نجی اسکولوں پر ایک ماہ سے زائد ایڈوانس فیس وصول کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
فیصلے کو والدین کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا جارہا ہے کیونکہ کئی نجی اسکول بیک وقت دو، تین یا اس سے بھی زیادہ ماہ کی فیس پیشگی وصول کرتے تھے جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہوجاتے تھے۔
پیرا کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اب کوئی بھی نجی اسکول ایک ماہ سے زیادہ کی فیس پیشگی وصول نہیں کرسکے گا جبکہ تعلیمی سال کے بارہ مہینوں سے زائد کسی بھی قسم کی اضافی فیس لینا مکمل طور پر غیر قانونی تصور ہوگا۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ان کارروائیوں میں بھاری جرمانے، مالی ریکارڈ کا خصوصی آڈٹ، رجسٹریشن منسوخی اور اداروں کو سیل کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
پیرا حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں متعدد نجی اسکول والدین سے مختلف عنوانات کے تحت اضافی رقوم وصول کررہے تھے جن میں سالانہ فنڈ، سیکیورٹی چارجز، ترقیاتی فنڈ اور دیگر غیر منظور شدہ فیسیں شامل تھیں۔
والدین کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے بعد اتھارٹی نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیا اور واضح پیغام دیا کہ تعلیمی اداروں کو کاروباری مراکز میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چیئرمین پیرا ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا ہے کہ والدین اور طلبہ کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ تعلیم بنیادی حق ہے اور نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیرا کا مقصد نجی اسکولوں کو بند کرنا نہیں بلکہ انہیں ضابطے کے مطابق چلانا ہے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جاسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ والدین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے خصوصی شکایت سیل قائم کردیا گیا ہے جہاں والدین اپنی شکایات درج کراسکیں گے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد متعلقہ ادارے کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں گی اور اگر الزام درست ثابت ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔