ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران سے ’سرینڈر‘ چاہتا ہے جبکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا سے متضاد اشارے مل رہے ہیں، بامعنیٰ مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے ۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری عہدیداران سے گفتگو میں ایرانی صدر پزشکیان نے کہا تھا کہ جنگ جتنی جلد ممکن ہو بند ہونی چاہیے تاکہ ایران ملک میں تعمیرِ نو پر توجہ دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ کشیدگی کا خاتمہ سفارت کاری میں ہے، پزشکیان نے ایرانی عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات یا غیر حقیقی وعدے مسائل کے حل میں مدد فراہم نہیں کرتے ، کامیابیوں اور چیلنجز دونوں کو ایمانداری سے عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
دریں اثنا اسی طرح کا مؤقف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نےبھی اپنایا ہے ، اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں ہیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ’ہتھیار ڈالنے کی میز‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حقیقی مذاکرات وہ ہوتے ہیں جن میں دونوں فریق برابر کی بنیاد پر بیٹھیں نہ کہ ایک فریق دوسرے پر اپنی مرضی مسلط کرے۔
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور ایک ایرانی تجارتی جہاز کی ضبطی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم امریکا کا مؤقف ہے کہ تمام فریق سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹ کیمطابق پاکستانی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے ہیں، پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
خیال رہے کہ ایران امریکا جنگ بندی منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے ختم ہو جائے گی، گرین وچ وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب بارہ بجے اور ایران میں بدھ کی صبح 3:30 بجے جنگ بندی ختم ہوگی، ٹرمپ نے ہفتے کے آغاز میں جنگ بندی میں توسیع کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میں نہیں جانتا۔ شاید نہیں۔ شاید میں اس میں توسیع نہیں کروں گا۔ لیکن ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے، ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت پر عائد کردہ محاصرہ پہلے ہٹا لیا تھا اور پھر اسے دوبارہ بند کر دیا ہے، عام طور پر دنیا بھر کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔