اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے جس کے باعث جڑواں شہروں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے پاک فوج، پاکستان رینجرز، اسلام آباد پولیس اور پنجاب پولیس کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ شہر میں داخل ہونے والی ہیوی ٹریفک پر بھی پابندی عائد ہے۔ شہریوں کو متبادل ٹریفک پلان پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر ضروری مشکلات سے بچا جا سکے۔
صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی کے اہم مقامات فیض آباد، پیرودھائی اور 26 نمبر چونگی کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب سرکاری امور بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ریڈ زون میں واقع تمام وزارتوں، ڈویژنز اور وفاقی اداروں کے ملازمین کو آج گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اسی طرح تعلیمی سرگرمیاں بھی آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں اور سرکاری و نجی جامعات میں کلاسز ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کی جا رہی ہیں۔
عدالتی نظام بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کو آج بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی آئینی عدالت میں بھی تمام عدالتی کارروائیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ 21 اپریل کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے اور سماعتیں آئندہ تاریخ تک مؤخر کر دی گئی ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدامات احتیاطی طور پر کیے گئے ہیں، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں