68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر ہیک ، سائبر سیکیورٹی رپورٹ میں بڑا انکشاف

68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر ہیک ، سائبر سیکیورٹی رپورٹ میں بڑا انکشاف

سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے بڑی تعداد میں پاس ورڈز کمزور ہونے کی وجہ سے انتہائی آسانی سے ہیک کیے جا سکتے ہیں۔ تقریباً 68 فیصد پاس ورڈز ایسے ہیں جنہیں جدید تکنیکوں کی مدد سے ایک دن کے اندر ہیک کیا جا سکتا ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صارفین کی جانب سے آسان نمبرز، عام الفاظ اور سادہ علامات کے استعمال نے سائبر حملہ آوروں کے لیے پاس ورڈز کو توڑنا نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اسی کمزوری کے باعث ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :18 کروڑ سے زائد صارفین کے پاسورڈ، حساس معلومات چوری ہونے کا انکشاف

تحقیق کے مطابق 2023 سے 2026 کے دوران لیک ہونے والے 23 کروڑ 10 لاکھ منفرد پاس ورڈز کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑی تعداد میں پاس ورڈز کمزور نوعیت کے تھے۔ ان میں سے اکثر پاس ورڈز یا تو ہندسوں سے شروع ہوتے ہیں یا ہندسوں پر ختم ہوتے ہیں جو ہیکرز کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 53 فیصد پاس ورڈز اعداد پر ختم ہوتے ہیں جبکہ 17 فیصد اعداد سے شروع ہوتے ہیں۔ تقریباً 12 فیصد پاس ورڈز میں تاریخ جیسی عددی ترتیب بھی شامل ہوتی ہے جو ان کی کمزوری کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کیا گوگل پاسورڈ کو مکمل طور پر ختم کرنے جا رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق پاس ورڈ میں صرف ایک علامت استعمال کرنے کی صورت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی علامت “@” ہے جو تقریباً 10 فیصد کیسز میں دیکھی گئی جبکہ نقطہ بھی کئی پاس ورڈز میں شامل پایا گیا۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروٹ فورس حملوں میں کمپیوٹر خودکار طریقے سے مختلف حروف اور نمبرز آزما کر درست پاس ورڈ تلاش کرتے ہیں اور جب صارفین کی عام عادات واضح ہو جائیں تو ہیکنگ کا عمل مزید تیز ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ آٹھ حروف تک کے کمزور پاس ورڈز ایک دن سے بھی کم وقت میں ہیک کیے جا سکتے ہیں جبکہ جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بعض اوقات پندرہ حروف پر مشتمل پاس ورڈز کو بھی انتہائی کم وقت میں توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles