ماہرین فلکیات کے مطابق ذی الحجہ کا نیا چاند ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایک بج کر ایک منٹ پر پیدا ہو چکا ہے،اس فلکیاتی صورتحال کے بعد آئندہ دنوں میں عیدالاضحیٰ کے چاند کی رویت کے امکانات کا جائزہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق اسلامی مہینے کے آغاز اور عید کے حتمی تعین سے ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے چاند کی رویت کا انحصار مکمل طور پر مطلع کی صفائی اور موسمی حالات پر ہے،اگر آسمان صاف رہا تو چاند نظر آنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ موجودہ فلکی حساب کے تحت غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر 18 گھنٹے سے کچھ زیادہ ہوگی، جو رویت کے امکانات کو نسبتاً بہتر بناتی ہے۔
غروبِ شمس اور غروبِ قمر کے درمیان وقت کا فرق بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ فرق مختلف شہروں میں مختلف ریکارڈ کیا گیا ہے کراچی میں یہ دورانیہ تقریباً55 منٹ جبکہ پشاور میں63 منٹ تک پہنچ گیا ہے ۔
فلکیاتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر چاند کی رویت ثابت ہو جاتی ہے تو پاکستان اور سعودی عرب میں عیدالاضحیٰ ایک ہی دن منائے جانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
موجودہ حسابات کے مطابق 27 مئی 2026، بدھ کے روز عید ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی اعلان رویتِ ہلال کے بعد ہی کیا جائے گا۔