عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر منگل کے روز ایشیائی ٹریڈنگ کے آغاز میں مستحکم رہا جبکہ عالمی بانڈ مارکیٹوں میں دو روزہ مندی کے بعد بہتری کے آثار دیکھنے میں آئے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ مثبت رجحان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملہ عارضی طور پر مؤخر کرتے ہوئے مذاکرات کو موقع دینے کا اعلان کیا۔
عالمی تیل مارکیٹ میں بھی کچھ نرمی آئی جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز 2.4 فیصد کمی کے بعد 109.43 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور توانائی سپلائی میں ممکنہ خلل کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں حالیہ کمی کے اثرات پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑنے کا امکان ہے توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں کم ہوں گی۔
ڈالر انڈیکس جو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے 99.026 پر مستحکم رہا۔ اس سے قبل پیر کے روز ڈالر انڈیکس میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس سے مسلسل پانچ روزہ اضافے کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا۔
امریکی صدر کے حالیہ فیصلے اور خلیجی ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے بعد سرمایہ کاروں کے جذبات میں بہتری آئی ہے جس کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں دباؤ کسی حد تک کم ہوا۔
دوسری جانب امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار 3 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد 4.591 فیصد تک آ گئی جو حالیہ ایک سالہ بلند ترین سطح سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ استحکام اور مہنگائی کے خدشات میں کمی کے باعث بانڈ مارکیٹ میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی بڑھ رہی ہے کہ امریکی مرکزی بینک رواں برس دسمبر کے اجلاس میں شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ فیڈ فنڈز فیوچرز کے مطابق 9 دسمبر کے اجلاس میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ ایک ماہ قبل یہ امکان صرف 0.5 فیصد تھا۔
کرنسی مارکیٹ میں جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر 158.895 پر مستحکم رہا۔ جاپان کی معیشت پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 2.1 فیصد بڑھی، جبکہ جاپانی وزیر خزانہ نے غیر معمولی کرنسی اتار چڑھاؤ کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔