عوام کو سستی بجلی دینے کا منصوبہ،حکومت کا بڑا اقدام

عوام کو سستی بجلی دینے کا منصوبہ،حکومت کا بڑا اقدام

حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت کام کرنے والے چینی بجلی منصوبوں کو نئے رعایتی معاہدوں پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں کمی لانے کے منصوبے پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

 ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ چینی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں بھی دیگر آئی پی پیز کی طرح رعایتی شرائط قبول کریں تاکہ کمرشل بینکوں سے حاصل کیے گئے 1.225 ٹریلین روپے کے فنڈز میں سے باقی رقوم جاری کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل انرجی ٹاسک فورس، جس کی سربراہی وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کر رہے ہیں نے چینی آئی پی پیز کے لیے مجوزہ طریقہ کار پر اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ ٹاسک فورس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نجکاری اور لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال بھی شامل ہیں۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے مطابق حکومت پر چینی آئی پی پیز کے 560 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں جو گزشتہ برس جون میں 430 ارب روپے تھے۔ ذرائع کے مطابق مالی مشکلات کے باعث ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے جبکہ چینی کمپنیاں اپنے واجبات کی وصولی کے لیے مختلف فورمز بشمول سی پیک سیکریٹریٹ سے رابطے کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے چینی کمپنیوں کو تجویز دی ہے کہ وہ 1.225 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ فنڈ سے فائدہ اٹھائیں تاہم اس کے لیے انہیں رعایتی معاہدوں پر دستخط کرنا ہوں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چینی کمپنیاں اس شرط کو فوری طور پر قبول کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل سے متعلق بڑی خوشخبری، حکومت نے جون تک پیٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کر لیا

یاد رہے کہ حکومت نے گزشتہ برس وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین سے قبل 16 چینی پاور منصوبوں کو 100 ارب روپے کی ادائیگی کی تھی  تاہم اب اضافی عارضی ادائیگیوں سے گریز کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے 18 کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے قرض حاصل کیا تھا تاکہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے جو اس وقت تقریباً 1.8 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں کو کم کیا جا سکے۔ تاہم فنڈز کا بڑا حصہ اس لیے جاری نہیں ہو سکا کیونکہ سی پیک منصوبے رعایتی شرائط پر رضامند نہیں ہیں۔

سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو ریحان اختر نے نیپرا میں ایک سماعت کے دوران کہا کہ بینک فنڈز کے اجرا میں تاخیر گردشی قرضے میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

editor

Related Articles