برطانیہ کے شاہی خاندان کی تاریخ میں ایک نیا رخ آیا ہے جہاں شہزادہ ولیم نے اپنی وسیع شاہی جائیداد کے کچھ حصے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
عرب میڈیا کے مطابق جائیدادیں بیچنے سے انہیں دولت مقامی طور پر سرمایہ کاری کے لیے دستیاب ہو سکے کیونکہ وہ 500 ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم سے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، 500 ملین کی رقم جو کہ ڈالرز کی مد میں 670 ملین ڈالر بنتی ہے ، شہزادہ ولیم اسے ‘افورڈ ایبل ہاؤسنگ اور ماحولیات سے متعلق منصوبوں پر لگانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔’
شہزادہ ولیم کے پرانی شاہی جائیدادوں کو ڈسپوز آف کرنے کے منصوبے کے بارے میں برطانوی اخبار ‘ٹائمز’ نے رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شہزادہ ولیم اپنی اس جائیداد کی بنیاد پر لندن کے اہم ترین مالک جائیداد تصور کیے جاتے ہیں، اس میں رہائشی و تجارتی جائیدادوں کے علاوہ وسیع و عریض زمین کے بھی مالک ہیں۔
ڈیوک آف کورن وال کے چیف ایگزیکٹو نے اس بارے میں کہا ‘ ڈیوک چاہتے ہیں کہ ان کی موجودگی کے مقامی کمیونٹیز پر اچھے اثرات مرتب ہوں۔ اس مقصد کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔’
چیف ایگزیکٹو کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کچھ رقم جائیداد کی فروخت سے حاصل ہو گی، کچھ شراکت داری سے ممکن بنائی جائے گی اور مزید قرضہ لی جائے گی، تاکہ کمیونٹی کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
شہزادہ ولیم جنہوں نے پچھلے سال بطور ڈیوک 20 ملین پاؤنڈ حاصل کیے تھے، تاہم ان کے والد شاہ چارلس کو عوام کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے کہ وہ کس بھدے طریقے سے اپنی جائیدادوں کا انتظام کر رہے ہیں۔