پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کو 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ تہران پہنچے ہیں، جس نے علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
محسن نقوی کا یہ تیز رفتار ہنگامی دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے مابین پسِ پردہ مذاکرات کی کوششیں عالمی اور علاقائی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں اور ماہرین اسے پاکستان کے بڑھتے ہوئے کلیدی سفارتی کردار کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ محسن نقوی اپنے اس دوسرے دورے کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ انتہائی اعلیٰ سطح اور حساس نوعیت کی ملاقاتیں کریں گے، جن کا محور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری حالیہ سفارتی کوششوں اور اس سے متعلق اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
یہ دورہ پاکستانی وزیر داخلہ کے تہران کے اس پہلے دورے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پیژشکیان، سینیئر ایٹمی و سٹریٹجک مذاکرات کار، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی کی ایرانی حکام کے ساتھ پچھلی بات چیت دو طرفہ تعاون، مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، علاقائی استحکام اور خصوصاً امریکا اور ایران کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں پر مرکوز تھی۔
سفارتی روابط کی سنسنی خیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے پہلے تہران دورے سے واپسی پر محسن نقوی سیدھے بلوچستان پہنچے، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی پہلے سے موجود تھے۔
بلوچستان میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی موجودگی اور وہاں سے فوراً بعد وزیر داخلہ کا دوبارہ تہران روانہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں سلامتی کے ماحول کو لاحق خطرات اور بڑے جیو پولیٹیکل معاملات پر انتہائی متحرک اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکا ایران کشیدگی اور پاکستان کا روایتی کردار
پاکستان اور ایران کے تعلقات کی اپنی ایک تزویراتی (سٹریٹجک) اہمیت ہے، لیکن موجودہ دورہ عالمی منظرنامے کے لحاظ سے انتہائی حساس وقت پر ہو رہا ہے۔
امریکا ایران پسِ پردہ مذاکرات
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید غیر یقینی صورتحال اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالث یا پیغام رساں کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
بلوچستان اور پاک ایران بارڈر سیکیورٹی
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ وزیر داخلہ کا تہران سے آ کر فوراً بلوچستان میں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملنا اور پھر تہران جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بارڈر سیکیورٹی، علاقائی امن اور اومان کا معاملہ ان مذاکرات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
کیا پاکستان کوئی بڑا عالمی مشن سنبھال رہا ہے؟
محسن نقوی کے 24 گھنٹوں میں 2 دورے عام سفارتی روایات سے ہٹ کر ہیں، جس کے درج ذیل اہم پہلو سامنے آتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کوششوں کے دوران پاکستانی وزیر داخلہ کی ایرانی صدر، وزیر خارجہ اور سینیئر مذاکرات کار سے مسلسل ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کسی اہم ترین پیغام کی ترسیل یا ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
عسکری و سیاسی قیادت کا ہم آہنگ ہونا
تہران کے پہلے دورے کے بعد بلوچستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور محسن نقوی کی اکھٹی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اس علاقائی مشن پر مکمل طور پر ایک پیج پر ہے اور کوئی بڑا فیصلہ کن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
علاقائی سلامتی پر اثرات
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس وقت نازک موڑ پر ہے۔ اگر پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان خلیج کم کرنے میں کامیاب رہتا ہے، تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا بلکہ پاکستان کی اپنی مغربی سرحد (بلوچستان) پر بھی سیکیورٹی کے حالات میں بڑی مثبت تبدیلی آئے گی۔