ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں، ہم نے کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی، مسعود پزشکیان

ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں، ہم نے کشیدگی کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی، مسعود پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو طاقت یا دباؤ کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا تصور حقیقت سے دور اور یہ محض ایک وہم ہے۔

ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ تہران نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کی ہے اور خطے میں کشیدگی سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ  ایران نے جنگ سے بچنے کے لیے متعدد مواقع پر لچک کا مظاہرہ کیا اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کو ترجیح دی۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سفارتکاری میں ایک دوسرے کا احترام کرنا جنگ کرنے سے زیادہ سمجھداری، محفوظ اور دیرپا طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :جنگ کا آغاز نہیں اپنا دفاع کیا، مذاکرات اس وقت ہی ہو سکتے ہیں جب دوسرا فریق سنجیدہ ہو ، ایرانی وزیرخارجہ

ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات اور رابطے کے تمام دروازے کھلے ہیں تاہم برابری اور احترام کی بنیاد پر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں تحریر کیا کہ ایران دو عالمی دہشت گرد افواج کے خلاف ایک تاریخی اور منفرد مزاحمت کر رہا ہے، جنگ نے ایرانی حکام پر پہلے سے زیادہ بوجھ ڈال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ایران کیخلاف جنگ شروع ہوئی تو خطے سے باہر تک پھیلے گی، پاسدارانِ انقلاب کا انتباہ

خیال رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے تقریباً پانچ ہفتے بعد پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے ، اس دوران اپریل میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات بھی ہوئے تاہم بے نتیجہ رہے تھے جبکہ اگلا دور نہیں ہو سکا۔

اس وقت بھی دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے تجاویز کا تبادلہ چل رہا ہے اور کوششیں کی جا رہی ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

editor

Related Articles