وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو عوام، کسان اور صنعتکار دوست قرار دیتے ہوئے بجلی، پیٹرولیم مصنوعات، پراپرٹی اور صنعتی شعبے کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا عندیہ دے دیا ہے۔
وزیر مملکت برائے قومی ورثہ و ثقافت حذیفہ رحمان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے دن رات بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
وزیر مملکت نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے جون 2022 میں جب ملک سنبھالا تو معاشی حالات انتہائی مخدوش تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے، تاہم اب حکومتی پالیسیوں کی بدولت معاشی اعشاریوں میں واضح بہتری آ رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر خطے میں حالیہ کشیدگی اور جنگ کے عالمی حالات کے اثرات رکاوٹ نہ بنتے تو حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ کمی لاتی۔ اس کے باوجود، وزیر اعظم نے وزارتِ خزانہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ اشیائے خورونوش، ادویات اور سستی بجلی کے معاملے پر عوام کو ہر ممکنہ ریلیف دیا جائے۔
انٹرویو کے دوران حذیفہ رحمان نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پراپرٹی سیکٹر کی شکایات اور سرمایہ کاری کے جمود کو دور کرنے کے لیے آئندہ بجٹ میں اس شعبے کے لیے ایک بڑا ریلیف پیکج لایا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ، زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے کسانوں کو زرعی ادویات (پیسٹی سائیڈز) پر بڑی سبسڈی دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ صنعتوں کو سستی بجلی اور خصوصی مراعات دی جائیں گی تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور درآمدی بوجھ کم ہو سکے۔
وزیر مملکت نے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سستی بجلی کی فراہمی سے بند انڈسٹری دوبارہ فعال ہوگی جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت کو واشگاف الفاظ میں ہدایت کی ہے کہ ’اگر عوام کے پاس واپس جانا ہے تو بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں ریلیف دینا ہی ہوگا‘۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت اپنی بقیہ آئینی مدت میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے معاشی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھے گی۔
معاشی ناہمواری اور بجٹ کے روایتی وعدے
پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ مئی اور جون کے مہینوں میں بجٹ سے ٹھیک پہلے حکومتی وزرا کی جانب سے ’عوام دوست بجٹ‘ اور ’بڑے ریلیف‘ کے دعوے ایک روایتی مشق کا حصہ رہے ہیں۔
2022 کا معاشی بحران
جیسا کہ وزیر مملکت نے ذکر کیا کہ جون 2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت نے جب اقتدار سنبھا لاتو ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننا پڑیں، جس کے نتیجے میں پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور عوام مہنگائی تلے دب گئے۔
سیاسی دباؤ اور نواز شریف کا بیانیہ
مسلم لیگ (ن) کو ماضی کے سخت معاشی فیصلوں کی وجہ سے شدید سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب جبکہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، پارٹی قائد نواز شریف کا یہ اصرار کہ ’عوام کے پاس جانا ہے تو ریلیف دینا ہوگا‘ واضح کرتا ہے کہ حکومت پر عوامی غیظ و غضب کو کم کرنے اور اپنے سیاسی گراف کو دوبارہ اوپر لانے کا شدید ترین دباؤ ہے۔
ریلیف کے دعوے بمقابلہ آئی ایم ایف کے اہداف
ایک طرف آئی ایم ایف مشن پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں 2 فیصد پرائمری سرپلس برقرار رکھنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور سبسڈیز ختم کرنے پر اصرار کر رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت کسانوں کو سبسڈی، پراپرٹی سیکٹر کو چھوٹ اور پیٹرول و بجلی پر ریلیف کے وعدے کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے سخت پروگرام میں رہتے ہوئے ایسا کوئی بھی بڑا ریلیف دینا مالیاتی جادوگری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
پراپرٹی اور صنعتی شعبے کو مراعات
پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف دینے کا مطلب فائلرز اور نان فائلرز پر ٹیکسز کی شرح میں نرمی ہو سکتا ہے، جو کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی قومی پالیسی کے خلاف جائے گا۔ البتہ، صنعتی شعبے کو سستی بجلی دینا برآمدات بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا بوجھ عام گھریلو صارفین پر نہ ڈالا جائے۔
عالمی حالات کا بہانہ
پیٹرولیم مصنوعات میں مزید کمی نہ ہونے کا ملبہ عالمی اور خطے کی کشیدگی پر ڈالنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پہلے ہی پیٹرول پر بڑا ریلیف نہ دے پانے کا دفاعی بیانیہ تیار کر چکی ہے، تاکہ بجٹ کے بعد عوام کی ممکنہ مایوسی کو سنبھالا جا سکے۔