بجلی پر سبسڈی محدود کردی گئی

بجلی پر سبسڈی محدود کردی گئی

ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت ترین مطالبات کے سامنے حکومت نے ایک اور بڑا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت بجلی پر دی جانے والی اربوں روپے کی سبسڈی کو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ پاکستان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مینوفیکچرڈ فارمولے کے تحت اب بجلی پر سبسڈی صرف اور صرف غریب اور کم آمدن والے اصل حقدار صارفین کو ہی دی جائے گی، جبکہ متوسط اور دیگر طبقات اس رعایت سے مستقل طور پر محروم ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بارش کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران جاری، روشنیوں کا شہر تین روز سے تاریک

میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت اب 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین بھی خودبخود اس رعایت کے اہل نہیں رہیں گے، بلکہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صرف وہی صارفین سبسڈی حاصل کر سکیں گے جو ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ (بی آئی ایس پی) میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں گے۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس نظام کو شفاف بنانے اور کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ سبسڈی کے حصول کے لیے صارفین کو ایک مخصوص ’کیو آر کوڈ‘ اسکین کر کے اپنی رجسٹریشن کرنا ہوگی، جس کے بعد ان کا فراہم کردہ ڈیٹا ‘نادرا’ کے مرکزی ڈیٹا بیس سے تصدیق کے لیے حاصل کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے حتمی ڈیڈ لائن واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یکم جنوری 2027 کے بعد ملک بھر میں روایتی سبسڈی کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور صرف اور صرف ’ٹارگٹڈ سبسڈی‘ کا نظام نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ نے اپنے سخت مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سے زیادہ میٹر لگانے والوں اور بڑے گھروں میں رہنے والے افراد کو کسی بھی صورت یہ رعایت نہیں دی جا سکتی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجلی، گیس اور آٹے پر دی جانے والی تمام سبسڈیز صرف اور صرف کم آمدن والے غریب افراد کا آئینی اور اخلاقی حق ہے، اور اسے امرا یا چور راستوں سے فائدہ اٹھانے والوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے مطالبات اور پاکستان کا گردشی قرضہ

پاکستان طویل عرصے سے توانائی کے شعبے میں ’گردشی قرضے‘ (سرکولر ڈیٹ) کے سنگین بحران سے دوچار ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا ناسور بن چکا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دیے جانے والے ہر بیل آؤٹ پیکیج یا قرض پروگرام میں یہ شرط اولین ترجیح ہوتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں نقصانات کو کم کیا جائے اور سبسڈیز کا بوجھ قومی خزانے سے ہٹایا جائے۔

مزید پڑھیں:ایل این جی بحران شدت اختیار کر گیا، 5 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر

ماضی میں حکومتیں تمام گھریلو صارفین کو، جو 200 یا 300 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرتے تھے، بلا تفریق سبسڈی فراہم کرتی تھیں۔

اس کا نقصان یہ ہوتا تھا کہ ایک بڑے اور پوش علاقے کے بنگلے میں رہنے والا شخص بھی الگ میٹر لگا کر غریبوں کے لیے مختص رعایت کا فائدہ اٹھا لیتا تھا۔ اب 2026 میں طے پانے والے نئے فریم ورک کے تحت، آئی ایم ایف نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ وہ معیشت کو دستاویزی شکل دے اور ڈیجیٹل تصدیق کے بغیر کسی کو ایک روپے کی بھی رعایت نہ دی جائے۔

ٹارگٹڈ سبسڈی کے عوام اور معیشت پر اثرات

یہ فیصلہ غریب ترین طبقے کو تو تحفظ فراہم کرے گا جو بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہیں، لیکن اس کا سب سے بڑا جھٹکا ’لوئر مڈل کلاس‘ یعنی سفید پوش طبقے کو لگے گا۔ وہ خاندان جو بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں نہیں آتے لیکن بڑی مشکل سے 200 یونٹس کے اندر بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے ماہانہ بلوں میں یکدم بھاری اضافہ ہو جائے گا۔

ڈیجیٹل نظام کا چیلنج

سبسڈی کے لیے کیو آر کوڈ اسکین کرنے اور نادرا سے تصدیق کی شرط بظاہر جدید معلوم ہوتی ہے، لیکن پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز کی سہولت محدود ہے، وہاں کے غریب عوام کے لیے اس پورٹل پر رجسٹریشن کرنا ایک بڑا امتحان بن جائے گا۔

معیشت کے لیے مثبت پہلو

اسٹرٹیجک لحاظ سے یہ اقدام قومی خزانے پر پڑنے والے کھربوں روپے کے بوجھ کو کم کرے گا۔ جب سبسڈی صرف ٹارگٹڈ افراد تک محدود ہوگی، تو حکومت کا مالیاتی خسارہ کم ہوگا اور یہ رقم دیگر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہو سکے گی، جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ اگلا مرحلہ آسان ہو جائے گا۔

چوری اور لوپ ہولز کا خاتمہ

ایک ہی گھر میں 3 سے 4 میٹر لگا کر 200 یونٹس کی سستی بجلی حاصل کرنے کا کلچراب ختم ہو جائے گا، کیونکہ نادرا کا ڈیٹا بیس شناختی کارڈ اور جائداد کے پتے کے ذریعے اصل مالکان کا پتہ لگا لے گا۔

Related Articles