امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے اور جنگ کے دوبارہ آغاز کے امکانات ’ففٹی ففٹی‘ ہیں، اتوار تک فیصلہ ہو جائے گا کہ معاہدہ کیا جائے گا یا ایران کو تباہ کر کے رکھ دیا جائے گا۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایران سے موصول ہونے والی تازہ تجاویز پر غور کریں گے اور ممکنہ طور پر اتوار تک فیصلہ کر لیں گے کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے یا معاہدہ کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق دو میں سے ایک کام ضرور ہوگا، یا تو ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا جائے گا یا پھر ایک اچھے معاہدے پر دستخط ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ایران کے تازہ ترین جواب کا جائزہ لے رہے ہیں، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس کے بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اس معاملے پر خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک کانفرنس کال بھی کریں گے، جس میں مصر، اردن اور ترکیہ کے رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
اس تمام صورت حال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ فریقین کے درمیان ثالثی کے فرائض انجام دینے والے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں کے بعد ہفتے کے روز واپس روانہ ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران میں مذاکرات سے متعلق نتیجہ خیز پیش رفت ہوئی۔
ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ جس نئے مسودے کا جائزہ لیں گے، وہ پاکستان کی ایرانی قیادت سے ہونے والی حالیہ بات چیت کا نتیجہ ہے۔